| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۰۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابیناشخص شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ میری بینائی واپس لَوٹادے۔'' تو سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا، ''کیا میں تیرے لئے دعا کروں ؟ ''اس نے عرض کیا،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بصارت کا چلا جانا مجھ پر بہت شاق گزرتاہے۔'' تو آپ نے ارشاد فرمایا، ''جاؤ !وضو کرواور پھر دو رکعتیں اداکرو ،اس کے بعد یہ دعامانگو،
'' اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّیِ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ اَتَوَجَّہُ اِلٰی رَبِّی بِکَ اَنْ یَّکْشِفَ لِیْ عَنْ بَصَرِی اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ وَشَفَّعْنِیْ فِیْ نَفْسِی
اے اللہ عزوجل میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری بارگاہ میں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے متوجہ ہوتا ہوں جو رحمت والے نبی ہیں ، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں عر ض کرتا ہوں کہ وہ میری بینائی سے پردہ ہٹادے، یااللہ عزوجل! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش میرے حق میں قبول فرمااور میری مراد پوری فرما۔''
راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ شخص وہاں سے پلٹا تو اللہ عزوجل نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی تھی۔''(الترغیب والترہیب ،کتاب النوافل ،باب الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ ودعائھا، رقم ۱، ج ۱، ص ۲۷۲ )
نوٹ: ترمذی کی روایت میں بِنَبِیِّیِ مُحَمَّدٍ کی جگہ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍکے الفاظ ہیں ۔ (۴۰۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جسکی اللہ عزوجل کی طرف کوئی حاجت ہو یا کسی بندے کی طرف حاجت ہوتو اسے چاہیے کہ کامل وضو کرکے دورکعتیں ادا کرے ۔اس کے بعد اللہ عزوجل کی حمد بیان کرے اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے پھر یہ دعا مانگے،
'' لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اَسْئَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرِّ وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَا تَدَعْ لِی ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہ، وَلَا ھَمَّا اِلَّا فَرَّجْتَہُ وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
ترجمہ:اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں وہ حلم والا، جود وکرم والا ہے اللہ عظمت والے عرش کے مالک کوپاکی ہے ،تمام عالم کے رب 'اللہ ہی کے لئے تمام خوبیاں ہیں۔ میں تجھ سے تیر ی رحمت اور بخشش واجب