Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
154 - 736
دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔''
   (مسند ابی یعلی ،رقم ۴۸ ،ج ۴، ص ۹ )
(۳۹۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک لشکر کو نجد کی جانب بھیجا وہ لشکر بہت سامال غنیمت لے کرجلدلوٹ آیا تولوگ لشکر کے مقام کی نزدیکی ،کثرت مال غنیمت او رجلد لوٹ آنے کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''کیا میں تمہیں ایک ایسی قوم کے بارے میں نہ بتاؤ ں جواِن سے بھی قریب جہاد کرنے والی اس سے بھی زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے والی اور جلدی لوٹنے والی ہے۔''(پھر فرمایا)،'' جو شخص وضو کر ے پھر نماز چاشت ادا کرنے کیلئے مسجد میں حاضر ہووہ ان لوگوں سے بھی قریب ، زیادہ غنیمت لانے والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔''
(مسند احمد ،مسند عبداللہ بن عمرو بن العا ص ، رقم ۴۹ ۶۶، ج ۲، ص ۵۸۸)
(۳۹۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جواپنے گھر سے کسی فرض نماز کی ادا ئیگی کے لئے نکلا ،اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طرح ہے اور جو چاشت کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلا اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کی طرح ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا اس طرح انتظارکرنا کہ بیچ میں لغو بات نہ کی جائے تو اس کا نام علیین(یعنی اعلی درجے والوں) میں لکھا جاتاہے۔''
 (سنن ابی داؤد ، کتا ب التطوع ،باب صلوۃ الضحی ،رقم ۱۲۸۸ ، ج۲، ص ۴۱)
(۳۹۶) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو چاشت کی دو رکعتیں پابندی سے اد ا کرتاہے اس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اگر چہ سمند رکی جھاگ کے برابر ہوں ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب امامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا،با ب ماجاء فی صلوۃ الضحی ،رقم ۱۳۸۲ ،ج ۲ ،ص ۱۵۳)
(۳۹۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ غزوہ تبو ک کیلئے گیا۔ ایک دن رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر اپنے صحا بہ کرام علیہم الرضوان سے گفتگو فرمارہے تھے کہ دورا ن گفتگوارشاد فرمایاکہ : جوشخص سورج کے بلند ہونے تک اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر اٹھ کر کامل وضو کرے اور دو رکعتیں ادا کرے تو اس کے گناہ ایسے معاف کردئیے جائیں گے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو ۔''
(مسند ابی یعلی ،رقم ۱۷۵۷ ،ج۲ ،ص ۱۸۰)
(۳۹۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جب سورج اپنے مطلع سے طلوع ہو کر ایسی حالت پر آجائے جیسے نمازعصر کے وقت سے غروب تک ہوتاہے ۔پھر جو شخص دو یا چار رکعتیں ادا کرے تو اس کے لئے اس دن کا ثواب ہے اور اس کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں، اگر اس دن اس کا انتقال ہوگیا تو جنت میں داخل ہوگا۔''
    (طبرانی کبیر ، رقم ۷۷۹۰، ج ۸، ص ۱۹۲)
Flag Counter