Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
153 - 736
چاشت کی نماز پابندی سے ادا کرنے کا ثواب
(۳۸۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''تمہارے ہر جوڑپر صدقہ ہے اور ہر تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللہِ کہناصدقہ ہے اور ہر تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہناصدقہ ہے اور ہر تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیریعنی اَللہُ اَکْبَرُ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور چاشت کی دو رکعتیں ان سب کو کفایت کرتی ہیں۔''
(صحیح مسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا،باب استحبا ب صلوۃ الضحی... الخ ، رقم ا۸۲۰ ، ص ۳۶۳)
(۳۹۰) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''آدمی کے تین سو ساٹھ جوڑ ہوتے ہیں، اسے ہر جو ڑ کا صدقہ ادا کرنالازم ہے ۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ،'' اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے ؟'' فرمایا، ''مسجد میں پڑی ہوئی رینٹھ کودفن کردینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز کوہٹا دینا صدقہ ہے ،اگر تم اس پر قدرت نہ رکھو توچاشت کی دورکعتیں تمہاری طر ف سے کفایت کریں گی ۔''
 (مسند احمد حدیث بریدہ الاسلمی ، رقم ۲۳۰۵۹ ، ج ۹، ص ۲۰)
(۳۹۱) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ،لہذا!میں انہیں ہر گز نہیں چھوڑتا (۱)میں وتر ادا کئے بغیر نہ سوؤں، (۲)میں چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کروں کیونکہ یہ اوابین یعنی کثرت سے تو بہ کرنے والوں کی نمازہے،(۳) اورہر مہینے تین دن روزے رکھا کروں۔''
 (صحیح بخاری ، کتا ب التہجد، باب صلوۃ الضحی فی الحضر ، رقم ۱۱۷۸ ، ج ۱ ،ص ۳۹۷)
(۳۹۲) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو شخص فجر کی نماز کے بعد چاشت کی دو رکعتیں ادا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے اور خیر کے علاوہ کوئی بات نہ کہے اس کی خطائیں معا ف کردی جاتی ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں ۔''
(مسند احمد ، مسند المکیین / حدیث معا ذ بن اَنَسْ الجھنی ،رقم ۱۵۶۲۳، ج ۵، ص ۲۶۰)
(۳۹۳) ۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جو فجر کی نماز اداکرنے کے بعدچاشت کی چار رکعتیں ادا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے اور کوئی لغو بات نہ کہے بلکہ اللہ عزوجل کا ذکر کرتا رہے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس
Flag Counter