| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۳۸۶) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو بندہ اپنے آپ کو رات میں ایک گھڑی قیام کے لئے تیار کرے پھر وہ سویا رہ جائے تو اس کی نیند اللہ عزوجل کی طرف سے صدقہ ہے اور اللہ عزوجل اس کے لئے اس کی نیت کے مطابق ثواب لکھے گا ۔''جبکہ ایک روایت میں ہے ،''جو اس نیت سے بستر کی طرف آئے کہ رات میں اٹھ کر نماز ادا کریگا مگر صبح تک اس پر نیند غالب رہے تو اسے اس کی نیت کے مطابق ثواب دیا جائے گا اور اس کی نیند اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے لئے صدقہ ہے ۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن ، فصل فی قیام اللیل ، رقم ۲۵۷۹ ، ج ۴، ص ۱۲۵)
(۳۸۷) ۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو شخص رات کو مخصوص رکعتیں پڑھنے کا عادی ہو پھر کسی رات اس پر نیند غالب آجا ئے تو اسے اس کی نماز کا ثواب عطا کردیا جائے گا اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہے ۔ ''
(سنن ابی داؤ د ، کتا ب التطوع ،با ب من نوی القیام فنام ،رقم ۱۳۱۴، ج ۲، ص ۵۱)
اپنے وِرد سے محروم رہ جانے والے کا ثواب
(۳۸۸) ۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو اپنے ورد ..یا.. اس میں سے کسی چیز سے محروم رہ جائے او ر پھر اسے فجر یا ظہر کے بعد پڑھ لے تو اسے وہی ثواب عطا کیاجائے گا جو رات میں پڑھنے پر عطا کیاجاتا ہے۔ ''
(صحیح مسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا، با ب جامع صلوۃ اللیل ومن نام الخ ، رقم ۷۴۷ ،ص ۳۷۶)