Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
151 - 736
دوسری جانب سے وضو کرنے والے کی ۔پھر جب فجر کا وقت ہوا تو آپ نے بلند آواز سے ارشاد فرمایا،'' رات کو سفر کرنے والی قوم صبح کے وقت اللہ عزوجل کی حمد کرتی ہے۔''

    حضرتِ سیدنا سفیان بن عینیہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ صفوان بن سلیم علیہ الرحمۃ نے قسم اٹھالی کہ'' اللہ عزوجل سے ملنے تک اپنے پہلو زمین پر نہ رکھوں گا ۔'' پھر تیس سال سے زیادہ عرصہ اس قسم پر قائم رہے۔ جب آپ کی موت کا وقت ہوا اورنزع وبیماری نے زور پکڑا تواس وقت بھی آپ بجائے لیٹنے کے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے بیٹے نے عرض کیا،'' اے ابو جان ! اگر آپ لیٹ جائیں تو ؟'' آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ'' اگر میں نے ایسا کرلیا تو اللہ عزوجل سے مانی ہوئی نذر اوراس سے اٹھایا ہواحلف پورا نہ کرسکوں گا۔'' اور بیٹھے ہی رہے حتی کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔

    (مؤلف فرماتے ہیں)مجھے ایک قبر کھودنے والے نے بتایاکہ'' میں ایک شخص کے لیے قبرکھودرہا تھا کہ اچانک دوسری (کھلی ہوئی) قبر میں گرگیا ۔وہاں میں نے ایک شخص کی کھوپڑی کو دیکھا جس کی ہڈیوں پر سجدے کے نشان تھے تو میں نے کسی سے پوچھا،'' یہ کس کی قبر ہے؟'' تو اس نے کہا ''کیا تم نہیں جانتے ؟ یہ حضرتِ سیدنا صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ کی قبر ہے ۔''

مدینہ : (مؤلف فرماتے ہیں کہ)تہجد گزار اورعبادت گزار ہستیوں کے واقعات بے شمار ہیں جن میں سے کچھ واقعات میں نے اپنی اس کتاب میں ذکر کردیئے ہیں۔ اگر چہ یہ میری اس کتاب کے اسلوب کے مطابق نہیں لیکن میں نے حصول برکت اورمسلمانوں کی ترغیب کے لیے اسے ذکر کردیا۔ اور(نیکی کی )توفیق تو اللہ عزوجل ہی دیتاہے اس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں