اس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ اگر آپ علیہ الرحمۃ سے کہہ دیا جاتا کہ کل قیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے۔ جب سردی کا موسم آتا تو آپ علیہ الرحمۃ مکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپ کو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سونہ سکیں۔ سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ عزوجل! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں توبھی میری ملاقات کو پسند فرما۔''
حضرتِ سیدنا خواص علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ہم ایک عابد ہ کے پاس گئے جن کانام رحلہ تھا ۔یہ اس قدر روزے رکھتی تھیں کہ ان کا رنگ سیاہ پڑگیا تھا اوراتنا روتیں کہ ان کی بینائی جاتی رہی اوراتنی کثرت سے نمازیں پڑھتیں کہ کھڑی نہ ہوسکتی تھیں ،لہذا بیٹھ کر ہی نماز پڑھتی تھیں۔ ہم نے انہیں سلام کیا پھراللہ عزوجل کے عفو کا تذکرہ کیا تاکہ ہم ان کے جوش کو کچھ ٹھنڈا کرسکیں تو آپ رحمۃ اللہ علیہا رونے لگیں اورفرمایا ،''مجھے اپنی جان کی قسم! میرے علم نے میرے دل کو زخمی کردیا ہے خدا کی قسم! میں چاہتی ہوں کہ کاش اللہ عزوجل نے مجھے پیدا نہ کیا ہوتا اورمیں کوئی قابل ذکر شے نہ ہوتی ۔'' اور دوبارہ نماز میں مشغول ہوگئیں۔
حضرتِ سیدتنا حبیبہ عدویہ رحمۃ اللہ علیہا کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ عشاء کی نماز ادا فرمالیتیں تو اپنی چھت پر کھڑی ہوجاتیں اوراپنی چادر اچھی طرح لپیٹ کر عرض کرتیں،''یاالٰہی عزوجل!تارے نکل آئے اورآنکھیں سوگئیں، دنیا کے بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کرلیے اورہر محب اپنے محبوب کے ساتھ خلوت میں چلا گیا جبکہ میں تیری بارگاہ میں کھڑی ہوں۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ علیہا نماز میں مشغول ہوجاتیں ۔ جب پوپھٹ جاتی اورفجر طلوع ہوجاتی تو عرض کرتیں ، ''یاالٰہی عزوجل !رات گزر گئی اوردن روشن ہوگیا مگر میں نہیں جانتی کہ تو نے میری اس رات کو قبول کیا کہ میں خوشی مناؤں ؟ یا اسے اپنی بارگاہ سے دھتکار دیا کہ میں سوگ مناؤں؟ مجھے تیری عزت کی قسم! جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا میر ایہی معمول رہے گا، اگرتو نے مجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار دیا پھر بھی میرے دل میں تیرے جودوکرم کی امید باقی رہے گی۔''
حضرتِ سیدتنا مُعَاذَ ہ عَدَوِیَّہ رحمۃ اللہ علیہا روزانہ صبح کے وقت فرماتیں، ''(شاید) یہ وہ دن ہے جس میں مجھے مرنا ہے۔'' پھر شام تک کچھ نہ کھاتیں پھر جب رات ہوتی توکہتیں ،''یہ و ہ رات ہے جس میں مجھے مرنا ہے۔'' پھر صبح تک نماز پڑھتی رہتیں ۔
حضرتِ سیدنا قاسم بن راشد شیبانی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا زَمعہ علیہ الرحمۃ مُحَصَّب میں ہمارے پاس آئے۔ آپ کی زوجہ اوربیٹیاں بھی ہمراہ تھیں ۔آپ علیہ الرحمۃ دیر تک نماز پڑھتے رہے۔ جب سحری کا وقت ہوا تو بلندآواز سے فرمایا،'' اے رات میں پڑاؤ کرنے والے قافلہ کے مسافرو !کیا ساری رات سوتے رہوگے ؟ کیا اٹھ کرسفر نہیں کروگے ؟'' تو لوگ جلدی سے اٹھ گئے اورکہیں سے رونے کی آواز آنے لگی اورکہیں سے دعا مانگنے کی ،ایک جانب سے قرآن پاک پڑھنے کی آواز سنائی دی تو