Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
149 - 736
اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا،'' آج رات میں کچھ تھکاوٹ محسوس کر رہا ہوں کچھ دیر بعد مجھے جگا دینا۔'' جب ان کی زوجہ محترمہ نے کچھ دیر بعد انہیں جگایا تو آپ علیہ الرحمۃ نے طبیعت میں کچھ گرانی محسوس کی تو اپنی زوجہ سے کہا،'' مجھے ایک گھنٹہ اورسونے دو۔'' اور دوبارہ سوگئے تو خواب میں ایک شخص ان کے پاس آیا اورپیشانی کے بال پکڑ کرانہیں جگاکر کہا،'' اے ابن زیاد ! اٹھو ،اپنے رب عزوجل کو یاد کرو وہ تمہارا چرچا کریگا۔'' تو آپ علیہ الرحمۃ گھبرا کر اٹھے تو آپ کی پیشانی کے بال اسی طرح کھڑے تھے اورمرتے دم تک کھڑے ہی رہے ۔ 

    امام ابو بکر طرطوشی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں مسجد اقصی میں سورہا تھا کہ ایک فلک شگاف آواز نے مجھے ڈرا دیا، منادی کہہ رہا تھا۔
اخوف وامن ان ذا لعجیب 		ثکلتک من قلب فانت کذوب 

اما وجلال اللہ لو کنت صادقاً		لما کان للاغماض منک نصیب
(۱)    خوف بھی رکھتے ہو اورامن سے سورہے ہویہ بڑی عجیب بات ہے میں تو دل سے تم پررو رہا ہوں کیونکہ تم بہت جھوٹے ہو۔

(۲)     اللہ عزوجل کی قسم !اگرتم سچے ہوتے تو نیند کا تمہارے پاس کوئی حصہ نہ ہوتا۔

(پھر فرمایا)،''خداعزوجل کی قسم! اس آواز نے آنکھوں کو رلادیااوردلوں کو غمگین کردیا۔''

    حضرتِ سیدنا ربیع بن خثیم علیہ الرحمۃ کی بیٹی نے آپ علیہ الرحمۃ سے عر ض کیا،'' اے ابو جان! کیا وجہ ہے کہ لوگ سو جاتے ہیں اورآپ نہیں سوتے ؟'' تو ارشاد فرمایا،'' بیٹی !تمہارا باپ جہنم سے ڈرتاہے ۔''

    حضرتِ سیدنا ربیع علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیدنا اویس قرنی رضی ا للہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں فجرکی نماز کے بعد بیٹھے ہوئے پایا میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ان کی تسبیح میں رکاوٹ نہیں ڈالتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ بیٹھے رہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز ادا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھے رہے، پھر عصرتک نماز پڑھتے رہے اور عصر کی نماز ادا فرمائی پھر مغرب کی نماز تک اپنی جگہ بیٹھے رہے، پھر مغرب ادا کی اورعشاء تک بیٹھے رہے ،پھر عشاء کی نماز ادا کی اورفجر تک اپنی جگہ بیٹھے رہے جب آپ رضی اللہ عنہ پر غنودگی چھانے لگی تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کیا ،''یاالٰہی عزوجل میں بہت زیادہ سونے والی آنکھ اورنہ بھرنے والے پیٹ سے تیری پناہ چاہتاہوں۔''یہ سن کر میں نے اپنے دل میں کہا ،''میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔''اور واپس لوٹ آیا۔

    حضرتِ سیدنا احمدبن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تعجب ہے اس پر جو جانتاہے کہ اس کے سر پر جنت سجی ہوئی ہے اوراس کے نیچے جہنم دہک رہی ہے پھر وہ ان دونوں کے درمیان کیسے سوجاتاہے ۔

    حضرتِ سیدنا صلہ بن اَشْیَم علیہ الرحمۃ کی ٹانگیں طوالتِ قیام (لمبے قیام) کی وجہ سے سوج گئیں تھیں ۔آپ علیہ الرحمۃ
Flag Counter