؟ اورمالک کا اخروی گھر کونسا ہے؟'' آپ علیہ الرحمۃ طلوع فجر تک یہی مناجات کرتے رہے۔
حضرتِ سیدنا عمر وبن عتبہ بن فرقد علیہ الرحمۃ روزانہ رات کو اپنے گھر سے نکل کر قبرستان آتے اورکہتے،'' اے قبر والو! صحیفے لپیٹ دیئے گئے اور اعمال اٹھا لیے گئے ۔''پھر قدم سیدھے کر کے ساری رات نماز پڑھتے رہتے پھر واپس آکر نماز فجر میں حاضر ہوجاتے ۔
حضر ت علی بن ابوالحسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضرتِ سیدنا یحیٰ بن زکریاعلیہ السلام نے پیٹ بھر کر گندم کی روٹی کھالی اوراپنے وظائف تر ک کر کے صبح تک سوئے رہے تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ ''اے یحیٰ! کیا تمہیں میرے گھر سے بہتر کوئی گھر مل گیا ہے ؟ یا میرے پڑوس سے اچھا کوئی پڑوس مل گیاہے ؟ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اگرفردوس تم پر ظاہر ہوجاتی تواس کے شوق میں تمہارا جسم پگھل جاتا اورتمہاری جان چلی جاتی اوراگرجہنم تم پر ظاہر ہوجاتی تو تمہاراجسم پگھل جاتا اورتم آنسوؤں کے بعد خون اورپیپ بہا کر روتے اورلوہے کا لباس پہن لیتے۔ ''
حضرتِ سیدنا مالک بن دینا ر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنا ورد بھول گیا ۔ جب سویا تو میں نے خواب میں ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اس کے ہاتھ میں ایک رقعہ تھا اس نے مجھ سے کہا'' کیا تم اسے پڑھنا پسند کرتے ہو؟ '' میں نے کہا ''ہاں۔'' تو اس نے وہ رقعہ مجھے دے دیا میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا تھا،۔۔۔۔۔۔