Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
148 - 736
؟ اورمالک کا اخروی گھر کونسا ہے؟'' آپ علیہ الرحمۃ طلوع فجر تک یہی مناجات کرتے رہے۔

    حضرتِ سیدنا عمر وبن عتبہ بن فرقد علیہ الرحمۃ روزانہ رات کو اپنے گھر سے نکل کر قبرستان آتے اورکہتے،'' اے قبر والو! صحیفے لپیٹ دیئے گئے اور اعمال اٹھا لیے گئے ۔''پھر قدم سیدھے کر کے ساری رات نماز پڑھتے رہتے پھر واپس آکر نماز فجر میں حاضر ہوجاتے ۔

     حضر ت علی بن ابوالحسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضرتِ سیدنا یحیٰ بن زکریاعلیہ السلام نے پیٹ بھر کر گندم کی روٹی کھالی اوراپنے وظائف تر ک کر کے صبح تک سوئے رہے تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ ''اے یحیٰ! کیا تمہیں میرے گھر سے بہتر کوئی گھر مل گیا ہے ؟ یا میرے پڑوس سے اچھا کوئی پڑوس مل گیاہے ؟ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اگرفردوس تم پر ظاہر ہوجاتی تواس کے شوق میں تمہارا جسم پگھل جاتا اورتمہاری جان چلی جاتی اوراگرجہنم تم پر ظاہر ہوجاتی تو تمہاراجسم پگھل جاتا اورتم آنسوؤں کے بعد خون اورپیپ بہا کر روتے اورلوہے کا لباس پہن لیتے۔ ''

    حضرتِ سیدنا مالک بن دینا ر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنا ورد بھول گیا ۔ جب سویا  تو میں نے خواب میں ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اس کے ہاتھ میں ایک رقعہ تھا اس نے مجھ سے کہا'' کیا تم اسے پڑھنا پسند کرتے ہو؟ '' میں نے کہا ''ہاں۔'' تو اس نے وہ رقعہ مجھے دے دیا میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا تھا،۔۔۔۔۔۔
أ أ لھتک  اللذائذ  و الامانی		  عن البیض الاوانس فی الجنان 

تعیش مخلداً  لاموت فیھا 		  وتلھو  فی  الجنان   مع  الحسان

تنبہ من  منامک  ان خیرا 		  من     النوم    التھجد    بالقران
ترجمہ : ۱)کیا تجھے لذتوں اور خواہشوں نے جنت کی کنواری لڑکیوں سے غافل کردیا۔

(۲)جنت میں تو ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ اس میں موت نہیں۔ اوروہاں تو خوبصورت عورتوں کے ساتھ کھیلے گا۔

(۳)     اپنی نیند سے بیدار ہوجاکیونکہ تہجد میں قرآن پڑھنا نیند سے بہترہے ۔

    حضرتِ سیدنا ازہربن مُغِیث علیہ الرحمۃ جوکہ نہایت عبادت گزار تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک ایسی عورت کو دیکھا جو دنیا کی عورتوں کی طرح نہ تھی تو میں نے اس سے پوچھا،''تم کون ہو؟'' اس نے جواب دیا،'' میں جنت کی حور ہوں۔''یہ سن کر میں نے اس سے کہا،'' میرے ساتھ شادی کر لو اس نے کہا میرے مالک کے پاس نکاح کا پیغام بھیج دو اورمیرا مہر ادا کردو۔'' میں نے پوچھا، ''تمہارا مہر کیا ہے ؟''تو اس نے کہا،'' رات میں دیر تک نماز پڑھنا ۔''

    حضرتِ سیدنا علاء بن زیاد علیہ الرحمۃ روزانہ رات کو ایک قرآن پاک ختم کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے ایک رات
Flag Counter