| جنت میں لے جانے والے اعمال |
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿16﴾فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿17﴾
ترجمہ کنزالایمان : ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اوراپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اورامید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔(پ21 ، السجدہ : 17)
حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ'' بے شک اللہ عزوجل نے ان لوگوں کے لئے جن کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں ایسے ایسے انعامات تیا رکئے ہیں کہ جنہیں نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا نہ ہی کسی کان نے سنااور نہ کسی بندے کے دل ميں اس کا خیال گزرا،انہیں نہ تو کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ ہی کوئی نبی مرسل۔پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہمارے قرآن میں اس کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿17﴾
ترجمہ کنزالایمان: توکسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔(پ21، السجدہ:17)
چند ایمان افروز روایات
حضرتِ سیدنا یوسف بن مہران علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ ''عرش کے نیچے مرغ کی صورت کا ایک فرشتہ ہے جس کے ناخن موتی کے اور کلغی سبز زبرجد کی ہے ۔جب را ت کا تہائی حصہ گزرجا تا ہے تو وہ اپنے پرو ں کو پھڑپھڑاتا ہے اور کہتا ہے،'' قیام کرنے والے اٹھ جائیں ۔''پھر جب آدھی را ت گزرجاتی ہے تو اپنے پرو ں کو پھڑ پھڑا تے ہوئے کہتا ہے کہ'' تہجد پڑھنے والے اٹھ جائیں ۔''اور جب دو تہا ئی ر ات گزرجاتی ہے تو اپنے پر پھڑ پھڑا کر کہتا ہے کہ ''نمازی اٹھ جائیں ۔''اورجب فجر طلو ع ہوجاتی ہے تو کہتا ہے کہ'' غا فل لوگ اٹھ جائیں ان کے گناہ ان کے سر پر موجود ہیں۔ ''
بعض بزرگان دین نے اللہ عزوجل کو خواب میں دیکھا اوراللہ عزوجل کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''مجھے اپنی عزت او رجلال کی قسم ! میں سلیمان تیمی کے ٹھکانے کو ضرور عزت والا بناؤں گا کیونکہ اس نے چالیس سال تک میرے لئے عشاء کے وضو سے فجر کی نمازاداکی ۔''
کہا جاتا ہے کہ حضرتِ سیدنا سلیمان تيمي رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مذہب یہ تھا کہ اگر نیند دل کوغافل کردے تو وضو ٹوٹ جا تا ہے