| جنت میں لے جانے والے اعمال |
باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ایک قنطار بارہ سو اوقیہ کا ہوتاہے اور ایک اوقیہ زمین وآسمان کے درمیان کی ہر چیزسے بہتر ہے ۔''
( صحیح ابن حبا ن ، فصل فی قیام اللیل ،رقم ۲۵۶۴، ج ۴، ص ۱۲۰)
(۳۸۲) ۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم رات کو اٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین سوج گئے ۔میں نے عرض کیا،'' آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے سبب سے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گنا ہ معاف فرمادیئے ہیں ۔''توارشاد فرمایا ،''کیا میں اللہ عزوجل کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟''
(صحیح بخاری ، کتاب التہجد ، باب قیام النبی حتی تر م قدماہ ، رقم ۱۱۳۰، ج۱، ص ۳۸۳)
(۲۸۳) ۔۔۔۔۔۔ حضر ت عبد اللہ بن ابو قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا رات کی نما ز (یعنی تہجد) کو ترک نہ کیا کرو کیونکہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اسے ترک نہ فرمایا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوتے یا تھکے ہوئے ہوتے تو اسے بیٹھ کرادا فرمالیا کرتے ۔''
(صحیح ابن خزیمہ ،جماع ابواب صلوۃ التطوع باللیل ، باب استحباب صلوۃ اللیل الخ ، رقم ۱۱۳۷ ، ج ۲، ص ۱۷۷)
(۳۸۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''حضرتِ سیدنا سلیمان علیہ السلام سے ان کی والدہ نے فرمایا،'' بیٹا ! رات کو زیادہ دیرنہ سونا کیونکہ رات کو زیادہ سونا انسان کو قیامت کے دن فقیر بنا د ے گا ۔ ''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن فصل فی قیام اللیل ، رقم ، ۱۳۳۲ ، ج ۲ ،ص ۱۲۵)
(۳۸۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! مجھے ایسے عمل کے بارے میں خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل اور جہنم سے دور کردے'' ارشاد فرمایا،'' تم نے ایک عظیم چیزکے بارے میں سوال کیا ہے او ر بے شک یہ عمل اسی کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ عزوجل اسے آسان فرمائے ۔''(پھر فرمایا)،''اللہ عزوجل کا کوئی شریک ٹھہرائے بغیر اس کی عبادت کرو اور نماز ادا کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضا ن کے روزے رکھو اور اگر بیت اللہ کی طرف جانے کی استطاعت پاؤ تو حج کرو۔'' پھر فرمایا،'' کیا میں تمہیں خیر کے دروازوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟روزہ ڈھال ہے او ر صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے آخری حصے میں نماز پڑھنا بھلائی کے دروازے ہیں ۔پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی :