| جنت میں لے جانے والے اعمال |
فرماتاہے ، ان سے خوش ہوتاہے اور انہیں خوش خبر ی دیتاہے ،(۱) وہ شخص کہ جب کفارکا کوئی لشکر حملہ آورہو تووہ اللہ عزوجل کی رضا کیلئے اس سے اپنی جا ن کے ذریعے جہا د کرے پھر یا تو قتل ہوجائے یا اللہ عزوجل اس کی مد د کرے اور اسے کفایت کرے تو اللہ عزوجل اپنے فرشتو ں سے فرماتاہے کہ میرے اس بند ے کی طر ف تو دیکھو کہ میری رضا کیلئے اپنی جان پر کیسے صبر کرتا ہے ؟(۲) وہ شخص جس کی بیوی خوبصورت اور بسترعمدہ و نرم ہے اور وہ رات کو بیدا ر ہوکرنما ز پڑھے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ'' یہ اپنی خواہش کو چھوڑ کر میرا ذکر کر رہا ہے اگر چاہتا تو سو جاتا۔'' (۳) وہ شخص جو سفر میں ہو اور اس کے ساتھ ایک قافلہ بھی ہو وہ را ت دیر تک جاگتے رہیں پھر سو جائیں اوروہ شخص رات کے آخری حصے میں تنگ دستی اور خو ش حالی دونوں حالتو ں میں نماز پڑھے ۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الصلوۃ ، با ب ثان فی صلوۃ اللیل، رقم ، ۳۵۳۶ ، ج ۲، ص ۵۲۵)
(۳۷۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''ہمارا رب عزوجل دوآدمیوں سے خو ش ہوتا ہے ، (۱) جو شخص اپنے او راپنی بیو ی کے بستر کو چھو ڑ کر نما ز ادا کرتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتاہے ''میرے اس بند ے کو دیکھو جو اپنے اور اپنی بیو ی کے بستر کو چھوڑ کر میرے انعا مات میں رغبت اور میرے عذاب کے خو ف کی وجہ سے نماز پڑھتاہے۔'' (۲)جو دشمن سے جہا د کرتاہو پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ جائیں اور یہ شکست کے نقصان اور ثا بت قد می کے انعا م کو یا د کرے اور پھر پلٹ کر مر تے دم تک لڑتا رہے تو اللہ عزوجل فرماتاہے کہ'' میرے اس بندے کو دیکھو جو میرے انعامات کی امید اور میرے عذا ب کے خو ف سے لوٹ آیا اور ڈٹ کر لڑتا رہا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا ۔''
(مسند احمد ، مسند عبداللہ بن مسعو د رقم ، ۳۹۴۹،ج ۲ ،ص ۹۲)
(۳۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حسد جائز نہیں مگر دو آدمیوں سے (۱)وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے قرآن عطا فرمایا اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے، (۲)وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے مال عطافرمایا اور وہ اسے دن رات ( اللہ عزوجل کی راہ میں )خرچ کرتا رہے ۔''
(صحیح مسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا ، با ب فضل من یقوم با لقران ویعلمہ ،رقم ۸۱۵ ، ص ۴۰۷)
وضاحت:
کسی کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا حسد کہلاتاہے اور یہ حرام ہے اور کبھی کبھا ر حسد کا اطلاق غبطہ (رشک ) پربھی ہوتاہے۔اس سے مراد کسی کی نعمت اپنے لئے بھی طلب کرناہے اسے رشک کہتے ہیں اس حدیث میں حسد کا یہی معنی مراد ہے اور یہ ایک اچھی تمنا ہے اور اس پر ثواب دیا جائے گا ۔