Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
141 - 736
کے برابر ہے ،اور ان سب سے زیاد ہ فضیلت والی نماز بندے کی وہ دورکعتیں ہیں جنہیں وہ رات کے درمیانی حصے میں رضائے الہٰی کے لئے ادا کرتاہے۔''
(التر غیب والترہیب،کتاب النوافل ، الترغیب فی قیام اللیل ، رقم ۲۲، ج۱ ،ص ۲۴۳)
(۳۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' میری امت کے بہترین لوگ حاملین قرآن اور رات کو جاگ کر اللہ عزوجل کی عبادت کرنے والے ہیں ۔''
    (الترغیب والترہیب ، کتا ب النوافل ، التر غیب فی قیام اللیل ، رقم ۲۷ ، ج ۱ ،ص ۲۴۳)
(۳۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ''یارسول اللہ ! جتنا چاہیں زندہ رہیں بالآخر موت آنی ہے، جو چاہيں عمل کریں بالآخراس کی جزا ملنی ہے، جس سے چاہیں محبت کریں بالآخر اس سے جدا ہونا ہے، جان لیجئے کہ مؤمن کاکمال رات کو قیام کر نے میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازہونے میں ہے۔''
        (طبرانی اوسط ، رقم ، ۴۲۷۸ ، ج ۳، ص ۱۸۷)
(۳۶۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَبُو اُمَامہ بَاہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' رات کے قیام کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور تمہارے رب عزوجل کی قربت کاذریعہ ہے اور گناہوں کو مٹانے اور گناہوں سے بچانے کا سبب ہے ۔''
 (سنن ترمذی ،کتا ب الدعوات ، با ب فی دعا ء النبی ، رقم ۳۵۶۰ ، ج ۵، ص ۳۲۳)
  (۳۶۶)۔۔۔۔۔۔ امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے اسی حدیث کو حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
(سنن ترمذی ،کتا ب الدعوات ، با ب فی دعا ء النبی ، رقم ۳۵۶۰ ، ج ۵، ص ۳۲۳ )
(۳۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بلال اور حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' رات کے قیام کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور تمہارے رب عزوجل کی قربت کاذریعہ ہے اور گناہوں کو مٹانے اور جسم سے بیماریاں دور کرنے کا سبب ہے۔''
( طبرانی کبیر ، رقم ۶۱۵۴ ،ج ۶، ص ۲۵۸)
(۳۶۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ اورحضرت ابوسَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو رات کو بیدار ہوکر اپنی اہلیہ کو جگائے اور پھر وہ
Flag Counter