Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
140 - 736
عرض کیا مجھے کوئی ایسا عمل بتایئے جسے کرکے میں جنت میں داخل ہوجاؤ ں''تو فرمایاکہ'' محتاجوں کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور صلۂ رحمی اختیا ر کرو اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھا کرو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتا ب الصلوۃ ،باب فصل فی قیام اللیل ، رقم ۲۵۵۰ ، ج ۴، ص ۱۱۵)
  (۳۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن تمام لوگ ایک ہی جگہ اکٹھے ہوں گے پھر ایک منادی ندا کریگاکہ'' کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلوبستروں سے جد ا رہتے تھے؟ ''پھر وہ لوگ کھڑے ہوں گے اوروہ تعداد میں بہت کم ہونگے اور بغیر حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے ،پھرتمام لوگوں سے حساب شروع ہوگا ۔''
(الترغیب ، والترہیب ،کتاب النوافل ،رقم ۹، ج ۱، ص ۲۴۰)
(۳۶۰)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''بے شک جنت میں ایک درخت ہے جس کی شاخوں سے حلے یعنی کپڑوں کے نئے جوڑے نکلتے ہیں جبکہ اس کی جڑوں سے سونے کے گھوڑے نکلتے ہیں جوکہ زین پہنے ہوئے ہیں ۔ان کی لگامیں موتی اوریاقوت کی ہوتی ہیں اور وہ بول وبراز نہیں کرتے ان کے پر ہوتے ہیں اور وہ حدِ نگا ہ پر قدم رکھتے ہیں اہلِ جنت ان پر اُڑتے ہوئے سواری کریں گے اور ان سے ایک درجہ نیچے والے لوگ عرض کریں گے کہ'' اے اللہ عزوجل !ان لوگوں کو یہ درجہ کیسے ملا ؟''توان سے کہا جائے گا،'' یہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے جبکہ تم سو جایا کرتے تھے، یہ دن میں روزہ رکھا کرتے جبکہ تم کھایا کرتے تھے اور یہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا کرتے تھے جبکہ تم جہاد سے فرار اختیار کرتے تھے ۔''
     (التر غیب والترہیب ،کتاب النوافل، التر غیب فی قیام اللیل ، رقم ۸ ، ج ۱ ص ۲۴۰)
(۳۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' رات کی نماز کی دن کی نماز پر فضیلت اسی طرح ہے جیسے پوشیدہ صدقے کی فضیلت اعلانیہ صدقے پرہے ۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۸۹۹۸، ج ۹ ، ص ۲۰۵)
(۳۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ ''میری مسجد میں ایک نماز پڑھنا دس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرا م میں نماز پڑھنا ایک لا کھ نمازوں کے برابر ہے اور میدان جہاد میں نماز پڑھنا بیس لاکھ نمازوں
Flag Counter