Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
139 - 736
پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' میری امت میں سے جو شخص رات کو بیدار ہوکر اپنے نفس کو طہارت کی طرف مائل کرتاہے حالانکہ اس پر شیطان گرہیں لگاچکاہوتاہے توجب وہ اپنے ہاتھ دھوتاہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ چہرہ دھوتاہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتاہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے جب وہ اپنے پاؤں دھوتاہے تو چوتھی گرہ کھل جاتی ہے تو اللہ عزوجل حجاب کے پیچھے موجود فرشتوں سے فرماتاہے کہ'' میرے اس بندے کو دیکھو جو اپنے نفس کو مجھ سے سوال کرنے پر مائل کرتاہے یہ بندہ مجھ سے جو کچھ مانگے گاوہ اسے عطا کردیا جائے گا۔''
   (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن ، کتاب الطھارۃ ، باب فضل الوضوء ،رقم ۱۱۴۹ ،ج ۲، ص ۱۹۴)
(۳۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا،''بے شک رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس گھڑی میں مسلمان بندہ جب اللہ عزوجل سے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی طلب کرتاہے تو اللہ عزوجل ا سے وہ بھلائی ضرور عطا فرماتاہے اوریہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے ۔''
   (صحیح مسلم ، کتا ب صلوۃ المسافرین وقصرھا ، با ب فی اللیل ساعۃ مستجاب فیھا الدعا ء ، رقم ۷۵۷،ص ۳۸۰)
(۳۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو نے لگے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا ۔جب میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک کو غور سے دیکھااورآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں چھان بین کی تو جان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں اور پہلی بات جو میں نے رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سنی وہ یہ تھی کہ ''اے لوگو ! سلام کو عام کرو اور محتاجوں کو کھاناکھلایا کرو اور صلۂ رحمی اختیا رکرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تونماز پڑھا کرو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔ ''
   (سنن ترمذی ،کتا ب صفۃ القیامۃ ، با ب ۴۲ ،رقم ۲۴۹۳ ،ج ۴، ص ۲۱۹)
(۳۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''بے شک جنت میں کچھ ایسے محلات ہیں جن میں آرپار نظر آتاہے، اللہ عزوجل نے وہ محلا ت ان لوگوں کیلئے تیار کئے ہیں جو محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں ،سلام کو عام کرتے اور رات کو جب لوگ سورہے ہوں تو نماز پڑھتے ہیں۔''
(صحیح ابن حبا ن ،کتا ب البر والاحسان ،باب افشا ء السلام واطعام الطعام ، رقم ۵۰۹ ، ج ۱ ،ص ۳۶۳)
(۳۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، " یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! جب میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیتا ہوں تو میرا دل خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہيں مجھے اشیا ء کے حقائق سے متعلق خبر دیجئے ۔'' توارشادفرمایا،'' ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے پھر میں نے
Flag Counter