Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
138 - 736
(7) اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَ یَرْجُوۡا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ٪﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان : کیاوہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتااور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیاوہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(پ23 ،الزمر :9)
(8)اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ15﴾اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمْ رَبُّہُمْ ؕ اِنَّہُمْ کَانُوۡا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیۡنَ ﴿ؕ16﴾کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿17﴾وَ بِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ ﴿18﴾وَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿19﴾
ترجمہ کنزالایمان : بے شک پرہیز گا ر با غو ں اور چشموں میں ہیں اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بے شک وہ اس سے پہلے نیکو کارتھے وہ رات میں کم سویا کرتے اور پچھلی رات استغفار  کرتے اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا۔(پ 26، الذٰریٰت:15تا19)
اس بارے میں احادیث ِ مقدسہ:
(۳۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ عزوجل کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نمازکے بعد سب سے افضل نماز رات میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔ ''
(صحیح مسلم ،کتا ب الصیام ، با ب فضل صوم المحرم ، رقم ۱۱۶۳ ، ص ۵۹۱)
(۳۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جب تم میں سے کوئی شخص سوجاتاہے تو شیطان اس کے سرکے پچھلے حصے پرتین گرہیں لگا دیتا ہے، وہ ہر گرہ پر کہتا ہے کہ'' لمبی تان کے سوجا، ابھی تو بہت رات باقی ہے۔'' جب وہ شخص بیدار ہوکر اللہ عزوجل کا ذکر کرتاہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر اگر وہ وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر نماز ادا کرے تو تیسری بھی کھل جاتی ہے اور وہ شخص تازہ دم ہوکر صبح کرتاہے بصورت دیگر تھکا ماندہ سست ہوکر صبح کرتاہے۔ ''ایک روایت میں یہ اضافہ ہے ، ''تو وہ تازہ دم ہو کر صبح کرتاہے اور خیر کو پالیتا ہے بصورت دیگر تھکا ماندہ صبح کرتاہے اور خیر کو نہیں پاتا۔''جبکہ ایک روایت میں ہے '' لہذا شیطان کی گانٹھوں کو کھول لیاکرو اگر چہ دو رکعتوں کے ذریعے ہی سے ہو۔''
(صحیح بخاری ، کتاب التہجد ،با ب عقد الشیطان علی قافیۃ الراس الخ ، رقم ، ۱۱۴۲ ، ج ۱، ص ۳۸۷)
(۳۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر
Flag Counter