(سنن ابی داؤد ،کتاب الوتر ، با ب استحبا ب الوتر ، رقم ۱۴۱۶ ،ج ۲، ص ۸۸ )
(۳۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جسے یہ خوف ہو کہ رات کے آخری پہر بیدا ر نہ ہو سکے گا ، اسے چاہیے کہ وہ سونے سے قبل ہی وتراداکر لیا کرے اور جسے یہ خو ف نہ ہوتو اسے چاہيے کہ رات کے آخری پہر وتر ادا کیا کرے کیونکہ رات کے آخری پہر کی نماز میں دن اور رات کے ملائکہ حاضر ہوتے ہیں ۔''
(صحیح مسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا ،باب من خاف ان لایقوم من آخر اللیل ، رقم ۷۵۵ ،ص ۳۸۰)
(۳۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جس نے چاشت کی نماز ادا کی اور ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور سفر وحضر میں وتر نہ چھوڑے تو ا س کے لئے ایک شہید کا ثواب لکھا جائے گا۔ ''
(مجمع الزوائد ،کتا ب الصلوۃ ، باب ماجاء فی الوتر، رقم ۴۹ ،ج ۲ ،ص ۵۰۱)
(۳۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا خارجہ بن حُذَافَہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے ہاں تشریف لا ئے اور فرمایا، ''بےشک اللہ عزوجل نے تمہاری مدد ایک ایسی نماز کے ذریعے سے فرمائی ہے جو تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے اور یہ نماز وتر ہے اور اسے تمہارے لئے عشاء سے طلوع فجر کے درمیان رکھاہے ۔ ''
(سنن ابی داؤد ،کتا ب الوتر ،باب استحبا ب الوتر ، رقم ۱۴۱۸ ،ج ۲، ص ۸۸)