| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۳۲۵)۔۔۔۔۔۔ ام المو منین حضرتِ سیدتنا ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جو شخص پابندی کے ساتھ ظہر سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعتیں ادا کریگا اللہ عزوجل اس پر جہنم کو حرام فرمادے گا ۔'' جبکہ ایک روایت میں ہے کہ'' اس کے چہرے کو جہنم کی آگ کبھی نہ چھوسکے گی۔''
(مسند احمد ،حدیث ام حبیبہ بنت ابی سفیان ،رقم ۲۶۸۲۵ ، ج ۱۰، ص ۲۳۲ بتغیر قلیل)
(۳۲۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم زوالِ شمس کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں ادا فرمایا کرتے اورارشاد فرماتے کہ ''یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں لہذا میں پسند کرتاہوں کہ اس گھڑی میں میر اکوئی نیک عمل آسمانوں تک پہنچے۔''
(مسند احمد ، احا دیث عبداللہ بن السائب ، رقم ۱۵۳۹۶ ، ج ۵، ص ۲۵۰ بتغیر قلیل)
(۳۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں ادا کیں گویا کہ اس نے وہ رکعتیں رات کو تہجد میں ادا کیں اور جو چار رکعتیں عشاء کے بعد ادا کرے گا تویہ شب قدر میں چار رکعتیں ادا کرنے کی مثل ہیں۔''
(طبرانی اوسط ، رقم۶۳۳۲ ،ج ۴ ،ص ۳۸۶)
(۳۲۸)۔۔۔۔۔۔ ا میرالمومنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' زوال کے بعد ظہر سے پہلے چاررکعتیں اداکرنا صبح میں چا ر رکعتیں ادا کرنے کی طر ح ہے اور اس گھڑی میں ہر چیز اللہ عزوجل کی تسبیح بیان کرتی ہے پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ،۔۔۔۔۔۔
یَتَفَیَّؤُاظِلٰلُہ، عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًالِّلّٰہِ وَھُمْ دٰخِرُوْنَ
ترجمہ کنزالایمان :اس کی پرچھائیاں داہنے اوربائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجد ہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں۔''0(پ۱۴ ، النحل : ۴۸)
(سنن ترمذی ، کتا ب التقدیر،با ب ومن سورۃ النحل ،رقم ۳۱۳۹ ،ج ۵، ص ۸۸)
(۳۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نصف النہا ر کے بعد نماز پڑھنا پسند فرمایا کرتے تھے۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی