| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۳۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' فجر کی نماز کے بعدطلوع ِشمس تک اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیا دہ پسند ہے اور عصرکی نماز ادا کرنے کے بعدغروب آفتاب تک اللہ عزوجل کا ذکرکرنے والی قوم کے ساتھ بیٹھنا مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔''
(سنن ابی داؤد ، کتاب العلم ، باب فی القصص ، رقم ، ۳۶۶۷ ، ج ۳، ص ۴۵۲)
(۳۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' طلوع شمس تک بیٹھ کراللہ عزوجل کا ذکر اور اس کی بڑائی بیان کرنا اور اس کی حمد وثناء کرنااور تسبیح وتہلیل کرنا مجھے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے دو غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے اور عصر کے بعد غروب ِشمس تک ذکر کرنامجھے اولاد اسماعیل علیہ السلا م سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔''
(مسند احمد ، مسند الانصار / حدیث ابی امامۃ البا ہلی ، رقم ۲۲۲۵۶ ،ج ۸، ص ۲۸۱)