| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۳۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم جب فجر کی نماز ادا فرمالیتے تو اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ اٹھتے جب تک نماز پڑھنے کا اختيار نہ ملتااور فرماتے جو فجر کی نماز ادا کرے پھرنماز پڑھنے کا اختيارملنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے یہا ں تک کہ نمازکااختیار ملے تو یہ اس کے لئے ایک مقبول حج اورعمرے کے برابر ہے ۔''
( طبرانی اوسط ، رقم ۵۶۰۲، ج ۴، ص ۱۶۹)
وضاحت:
نماز کا اختیار ملنے سے مراد یہ ہے کہ طلوع شمس کے بعد جب تک سورج بلند نہ ہوجائے نماز ادا کرنا مکروہ ہے اور یہاں کراہت کے وقت کا گزرجانا مراد ہے۔ (۳۰۵)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک لشکرکو نجد کی جانب بھیجا وہ بہت سا مال غنیمت لئے جلدی لَوٹ آیا تو ہم میں سے ایک شخص نے کہاکہ ''ہم نے اس گروہ سے زیا دہ جلدی لوٹنے اور کثرت سے مال غنیمت لانے والا لشکرکبھی نہیں دیکھا ۔''تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا '' کیا میں تمہیں ایسی قوم کے بارے میں نہ بتاؤ ں جو اس سے زیادہ مال غنیمت حاصل کرلیتی اور جلدی لوٹ آتی ہے یہ وہ قوم ہے جو فجر کی نماز میں حاضر ہوتی ہے پھر طلوعِ شمس تک بیٹھ کر اللہ عزوجل کا ذکر کرتی ہے یہی وہ قوم ہے جو جلدی لوٹنے اور زیادہ غنیمت والی ہے ۔''
(سنن ترمذی ، کتا ب الدعوات ، با ب ۱۰۸ ،رقم ۳۵۷۲ ، ج ۵، ص ۳۲۸)
(۳۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم جب فجر کی نماز ادا کرلیا کرتے تو طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر چارزانو بیٹھا کرتے ۔
جبکہ طبرانی شریف کی روایت میں ہے کہ جب رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز ادا فرمالیا کرتے تو طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہتے ۔(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ ،باب فضل الجلوس فی صلوۃ بعد الصبح ، رقم ۶۷۰ ،ص ۳۳۷)