Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
120 - 736
 پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا پھر نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد اپنا رُخ ِانور صحابہ کرام علیم الرضوان کی طرف کرکے فرمایا، ''لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم جب سے نماز کا انتظارکررہے تھے نماز ہی میں تھے۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب الاذان ،باب من جلس فی المسجد ینتظرالصلوۃ ، رقم ۶۶۱ ،ج ۱، ص ۲۳۶)
(۲۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی پھر واپس جانے والے چلے گئے اور جسے وہیں بیٹھنا تھا وہ دوسری نماز کا انتظار کرنے لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جلدی سے تشریف لائے ، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بہت تیز سانس لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنوں کے سہارے بیٹھ کر ارشاد فرمایا،'' خوشخبری سن لو کہ تمہارے رب عزوجل نے آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے اور فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جنہوں نے ایک فریضہ ادا کرلیا اور دوسرے کے انتظار میں ہیں ۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتاب المساجد والجماعات ،باب لزوم المساجد ، رقم ۸۰۱ ، ج ۱، ص ۴۳۸)
(۲۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اس شہسوار کی طرح ہے جس نے اپنا گھوڑا اللہ عزوجل کی راہ میں باندھا اور یہ شخص اس گھوڑے کے پہلو سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے اوریہ جہاد اکبر میں ہے ۔''
     (مسند احمد،مسند ابی ھریرۃ ،رقم ۸۶۳۳،ج۳،ص۲۶۷)
Flag Counter