Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
118 - 736
(۲۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' گزشتہ را ت میرے رب کے پاس سے ایک آنے والا میرے پاس آیا ،(جبکہ ایک روایت میں ہے) گزشتہ رات میرا رب عزوجل احسن صورت میں میرے پاس آیا اور مجھ سے فرمایا،'' اے محمد(صلي اللہ عليہ وسلم)۔'' میں نے عرض کیا،
'' لَبَّیْکَ رَبِّیْ
یعنی اے میرے رب میں حاضر ہوں۔'' فرمایا، ''کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کس معاملے میں جھگڑرہے ہیں؟'' میں نے عرض کیا، ''میں نہیں جانتا ۔''تو اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔'' 

    ایک روایت میں ہے کہ'' میری گردن پر رکھا ،تو میں نے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب جان لیا ۔''(یا یہ فرمایا )،''جو کچھ مشرق ومغرب میں ہے سب جان لیا۔''پھراللہ عزوجل نے فرمایا''اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملأ اعلیٰ کے فرشتے کس معاملے میں جھگڑرہے ہیں ؟''میں نے عرض کیا ،'' ہاں ! وہ درجات،کفارات، جماعت کی طرف چلنے اور شدید سردی کے عالم میں کامل وضو کرنے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے اور جو شخص پابندی سے نمازیں ادا کرتا ہے ،وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارتااور بھلائی کے ساتھ مرتاہے اور اس کے گناہ اس طرح مٹا دئیے جاتے ہیں جیسے اس دن تھے جس دن اس کی ماں نے اسے جناتھا ،۔۔۔۔۔۔ان معاملا ت میں جھگڑ رہے ہیں ۔''
     (ترمذی ، کتاب التفسیر، باب من سورۃ ''ص'' ،رقم ۳۲۴۵ ،ج۵ ،ص۱۵۹)
وضاحت :
    فرشتو ں کے جھگڑنے سے مر اد نیک اعمال اللہ عزوجل کی بارگاہ میں لے جانے میں ایک دوسرے سے جلدی کرنا ہے کیونکہ فرشتے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں نیک اعمال لے کر حا ضر ہونے سے اللہ عزوجل کا قرب پاتے ہیں ۔ 

(۲۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا داؤد بن ابی صالح رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے پوچھا'' اے بھتیجے ! کیا تو جانتاہے کہ یہ آیت مبارکہ کن لوگو ں کے بارے میں نازل ہوئی؟
اِصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا
ترجمۂ کنزالایمان: اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو۔(پ۴،النساء:۲۰۰)

     میں نے عرض کیا،'' نہیں۔''تو فرمایاکہ میں نے حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جہاد کے مواقع کم ہوتے تھے مگر یہ کہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔''
(مستدرک للحاکم ،کتاب التفسیر ، با ب شا ن نزول آیۃ (اصبرووصابروا)، رقم ۳۲۳۱، ج ۳، ص ۲۱)
(۲۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے
Flag Counter