| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۲۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نےخاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ '' مسجدہر پرہیز گا ر کاگھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت ، رضااور پل صرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے۔''
(مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب لزوم المسجد ،رقم ۲۰۲۶ ،ج ۲، ص ۱۳۴)
(۲۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جب تم کسی مسجد میں کثرت سے آمدورفت رکھنے والے کو دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ،
اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِا للّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِر
ترجمۂ کنزالایمان :اللہ کی مسجد یں وہی آبا د کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایما ن لاتے ۔(پ ۱۰ ،التوبہ :۱۸)
(سنن ترمذی ، کتا ب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمۃ الصلوۃ ،رقم ۲۶۲۶ ،ج ۴، ص ۲۸۰)
(۲۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' بے شک اللہ عزوجل کے گھروں کو آباد کرنے والے ہی اللہ والے ہیں ۔''
(طبرانی اوسط ، رقم ۲۵۰۲ ،ج ۲ ،ص ۵۸)
(۲۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو مسجد سے محبت کرتا ہے اللہ عزوجل اسے اپنا محبوب بنا لیتاہے ۔''
(مجمع الزوائد ،کتا ب الصلوۃ ،با ب لزوم المساجد ، رقم ۲۰۳۱ ،ج ۲، ص ۱۳۵)
(۲۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لئے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تو اللہ عزوجل اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب المساجد والجماعات ،با ب لزوم المساجد، رقم ۸۰۰ ،ج ۱، ص ۴۳۸)
(۲۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بے شک شیطان ریوڑ کے بھیڑئیے کی طرح ایک بھیڑیا ہے جوپیچھے رہ جانے والی تنہا بھیڑ کو