Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
111 - 736
(۲۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' مسجد کی طرف آمد ورفت اللہ عزوجل کی را ہ میں جہادکی مثل ہے ۔''
 (طبرانی کبیر ، رقم ۷۷۳۹ ،ج ۸ ،ص ۱۷۷)
 (۲۶۵)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضرتِ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجد کی طرف چلنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا گناہوں کو اچھی طرح دھو دیتا ہے۔''
 (مسند ابویعلی ، مسند علی بن ابی طالب ، رقم ۴۸۴ ،ج ۱ ،ص ۳۳۴)
 (۲۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا '' کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جس کے سبب اللہ عزوجل گناہوں کو مٹادیتاہے اور درجات کو بلند فرمادیتا ہے۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہیں ،ضرور بتایئے۔'' فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضوکرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا، یہی جہاد ہے ، یہی جہا د ہے ۔''
  (صحیح مسلم ، کتا ب الطھارۃ، با ب فضل اسبا غ الوضوء علی مکارہ ،رقم ۲۵۱، ص ۱۵۱)
 (۲۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ، ''کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور گناہو ں کو معاف فرمادیتا ہے ؟'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' ضرور بتایئے۔'' پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ۔
 (صحیح ابن حبا ن ، کتا ب الطھارۃ ، با ب فضل الوضو ء، رقم ۱۰۳۶ ،ج ۲ ،ص ۱۸۸)
 (۲۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا'' جو شخص اپنے گھر سے کسی فرض نَماز کی ادائیگی کے لئے چلا،اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طرح ہے اور جو صرف چاشت کی نَماز ادا کرنے کے لئے نکلا ،اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کی طرح ہے اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَمازاس طر ح پڑھنا کہ درمیان میں کوئی لغو بات نہ کی جائے علیین میں لکھا جاتا ہے ۔ ''
  (سنن ابی داؤد ،کتا ب الصلوۃ ،با ب ماجاء فی فضل المشی الی الصلوۃ ،رقم ۵۵۸، ج ۱، ص ۲۳۱)
 (۲۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سلما ن رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ا ۤقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں
Flag Counter