| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ترجمہ کنز الایمان:اور ہم لکھ رہے ہیں جوانہوں نے آگے بھیجااور جونشانیاں پیچھے چھوڑگئے ۔'' (پ۲۲ ، یسۤ: ۱۲)
( ابن ماجہ کتا ب المساجد والجماعات ،باب الابعد فالابعد من المسجد اعظم ثوابا ، رقم ۷۸۵ ،ج ۱، ص ۴۳۲)
(۲۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ نَماز پڑھنے جایا کرتاتھا ۔سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم درمیانے قدم چلا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا، ''کیا تم جانتے ہو کہ میں درمیانے قدم کیوں چلتا ہوں؟ ''میں نے عرض کیا اللہ عزوجل اور اس کارسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔'' توارشاد فرمایا،'' جب تک بندہ نَماز کی طلب میں ہوتا ہے نَماز ہی میں ہوتا ہے ۔'' ایک اورروایت میں ہے کہ'' میں درمیانے قدم اس لئے چلتا ہوں تاکہ نَماز کی طلب میں زیادہ قدم چل سکوں ۔ ''
(مجمع الزوائد ، کتاب الصلوۃ ، باب کیف المشی الی الصلوۃ ، رقم ۲۰۹۲ ، ج۲ ،ص ۱۵۱ )
(۲۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' نَماز کے معاملے میں سب سے زیادہ ثواب پانے والا وہ شخص ہے جو زیادہ دور سے نَماز کے لئے چل کر آئے ،اس کے بعد وہ شخص جو اس سے کم لیکن دوسروں سے زیاد ہ قدم چلے اور جو شخص(اگلی) باجماعت نَماز ادا کرنے کا انتظارکرتاہے وہ اس شخص سے زیادہ ثواب پائے گا جو(ایک)نماز پڑھ کر سوجاتاہے ۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب الاذان ، با ب فضل صلوۃ الفجر فی جماعۃ،رقم ۶۵۱، ج ۱، ص ۲)
(۲۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصارصحابی رضی اللہ عنہ کی رہائش مسجد سے بہت دور تھی لیکن اُن کی نَماز کبھی نہیں چھوٹتی تھی ۔جب ان سے کہا گیاکہ'' تم ایک دراز گوش (یعنی گدھا) خرید لوتاکہ تم دن اور رات میں اس پر نماز کے لئے آسکو ۔''تو انہوں نے فرمایا ،''مجھے تومسجد کے قریب رہائش اختیا ر کرنابھی پسند نہیں کیونکہ میں چاہتا ہو ں کہ مسجد کی طر ف آتے ہوئے اور مسجد سے واپس گھر لوٹتے ہوئے میرے قدموں کولکھا جائے۔'' تو سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل تیرے تمام قدموں کو جمع فرمادے گا۔'' ایک روایت میں ہے کہ'' تیری خواہش پوری ہوگی ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل کثرۃ الخطاء الی المسجد ، رقم ۶۶۳ ، ص ۳۳۴)
(۲۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےشہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مسجد کی طرف چلا.. یا..مسجد سے واپس لَوٹا تواللہ عزوجل ہر آمد ورفت پر اس کے لئے جنت میں ایک مہمان خانہ بنائے گا ۔''
(صحیح مسلم ، کتا ب المساجد ومواضع الصلوۃ ، با ب المشی الی الصلوۃالخ ، رقم ۶۶۹،ص ۳۳۶)