Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
109 - 736
اس کے فرشتے( کراماً کاتبین) اس کے مسجد کی طرف آتے ہوئے اٹھنے والے ہر قد م کے عوض دس نیکیاں لکھتے ہیں اور بیٹھ کرنَماز کا انتظار کرنے والا نَماز پڑھنے والے کی طر ح ہے اور اسے گھر سے نکلتے ہی لوٹنے تک نَمازی شمار کیا جاتا ہے ۔ ''
(مسند احمد ، مسندالشامیین/ حدیث عُقْبَہ بن عا مر ، رقم ۱۷۴۴۵ ، ج۶ ،ص ۱۴۶)
(۲۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَعِیْد بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگے کہ میں تمہیں فقط حصولِ ثواب کی نیت سے ایک حدیث سنا تا ہو ں، میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' تم میں سے جو کامل وضو کرے اور مسجد کی طرف چلے تو دایاں قدم اٹھانے پراللہ عزوجل اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور بایاں قدم رکھنے پر اللہ عزوجل اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، اب تمہاری مرضی کہ تم مسجد سے قریب رہویا دور۔ پھر جب وہ مسجد میں آتا ہے اور باجماعت نَماز ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں،پھر اگر وہ مسجد میں حاضر ہو اور اس کی بعض رکعتیں نکل چکی ہوں اور بعض باقی رہ گئی ہوں اسے چاہيے کہ جو رکعتیں وہ پاسکے امام کے ساتھ پڑھ لے اور باقی رکعتیں مکمل کرلے تو بھی اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اوراگر وہ مسجد میں (جماعت سے نماز پڑھنے کی نیت سے)حاضر ہوالیکن جماعت ہو چکی ہو تو اسے چاہيے کہ اپنی نَماز ادا کرلے کہ اس کے لئے بھی یہی بشارت ہے ۔''
(مسلم، کتاب الصلوۃ ،باب ماجاء فی الھد ی فی المشی الی الصلوۃ ،رقم ۵۶۳ ، ج ۱ ،ص ۲۳۳)
(۲۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی علی صاحبھاالصلوۃ والسلام کے قریب کچھ مکانات خالی ہوئے تو بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا ۔جب یہ بات نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلمہ سے فرمایا،'' مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟ '' انہوں نے عرض کیا ''جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!''توآپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا،'' اے بنو سلمہ ! اپنے ہی گھروں میں رہو کیونکہ تمہارے ہرقدم پر نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔''بنو سلمہ کہتے ہیں(یہ فرمان سن کرہمیں اتنی خوشی ہوئی)کہ اگر ہم اپنے مکانات تبدیل کرلیتے تو ہمیں ہرگز ایسی خوشی حاصل نہ ہوتی ۔

     ایک اور روایت میں ہے کہ سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بنو سلمہ سے فرمایا'' بے شک تمہیں ہر قدم کے عوض ایک درجہ عطا کیا جاتاہے ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب المساجد ومواضع العلوم ، با ب فضل کثرۃ الخطا الی المسجد ،رقم ۶۶۵ ص ۳۳۵)
(۲۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے گھر مسجد نبوی شریف سے ذرادور تھے۔ پھر انہوں نے مسجد نبوی کے قریب رہائش اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ،''
نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمْ ؕ؎
Flag Counter