| جنت میں لے جانے والے اعمال |
کیا،'' یا رسول اللہ ! کیا یہ سن رہی ہے؟''ارشاد فرمایا،'' تم اس سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔''راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ''اس نے میرے سوال کے جواب میں کہا ،'' مسجد کی صفائی کو۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الصلوۃ، الترغیب فی تنظیف المساجد وتطھیرھا الخ ، رقم ۴ ، ج ۱، ص ۱۲۲)
(۲۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک حبشی جوان یا عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی ۔جب شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اسے موجودنہ پایا تو اس کے بارے میں پوچھا ۔صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ،''وہ تو فوت ہوگئی ۔''فرمایا ،''کیا تم مجھے اس کی خبر نہیں دے سکتے تھے؟'' راوی کہتے ہیں شاید صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس معاملے کو چھوٹا سمجھتے ہوئے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر نہ دی ۔پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ''مجھے اس کی قبر پر لے چلو ۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس کی قبر پر لے آئے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نَماز جنازہ ادا فرمائی پھر فرمایا،'' بے شک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی تھیں،بےشک اللہ عزوجل میرے ان پرنَماز پڑھنے کے سبب ان قبروں کو منور فرمادے گا۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الصلوۃ ، باب الصلوۃ علی القبر، رقم ۹۵۶، ج ۱ ،ص ۴۷۶ بتغیر قلیل)
(۲۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مسجد سے تکلیف دہ چیز نکالے گا اللہ عزوجل اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب المساجد والجماعا ت ،باب تطھیر المساجد ،رقم ۷۵۷،ج۱، ص ۴۱۹)
(۲۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوقِرْصَافَہْ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' مسجدیں بناؤ اور ان میں سے گرد وغبار نکال دیا کرو کہ جو اللہ عزوجل کی رضا کیلئے مسجد بنائے گا اللہ عزوجل اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔''ایک شخص نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ !کیا مسجدیں گزرگاہوں پر بنائی جائیں؟ '' ارشاد فرمایا،'' ہاں! اور ان میں سے گرد وغبار صاف کرنا حورعین کا مہر ہے۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ ،باب بناء المسجد، رقم ۱۵۲۱ ، ج۲ ،ص ۱۱۳)
(۲۵۲)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے محلوں میں مسجد یں بنانے اور انہیں پاک وصاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔
(مسند احمد ، مسند السید ۃ عا ئشہ رضی اللہ عنھا، رقم۲۶۴۴۶، ج۱۰ ،ص ۱۵۲)