Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
106 - 736
مسجد کی صفا ئی کرنے کا ثواب
(۲۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''مجھ پر اپنی امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ اس گردکاثواب بھی پیش کیا گیاجسے مسلمان مسجدسے نکالتا ہے ،اورمجھ پر اپنی امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے ان میں قرآن کی سورت یا آیت یاد کرکے بھلا دینے سے بڑاکوئی گناہ نہیں پایا ۔''
  (سنن ابی داؤد ،کتاب الصلوۃ ، باب فی کنس المسجد ،رقم ۴۶۱ ، ج ۱،ص ۱۹۸)
(۲۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک حبشی عورت مسجدسے کچرا نکالا کرتی تھی ایک رات اس کا انتقال ہوگیا۔ جب صبح ہوئی اور سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اس کی وفات کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' تم نے مجھے اس کے بارے میں (رات ہی میں) کیوں نہیں بتایا ؟'' پھر سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو ساتھ لیکر نکلے اور اس کی قبر پر جاکر اس کی نَماز جنازہ ادا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نَماز ِجنازہ اداکی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
    (سنن ابن ماجہ ،کتا ب الجنائز ،باب ماجاء فی الصلوۃ علی القبر ، رقم ۱۵۳۳ ،ج ۲ ،ص ۲۳۵ )
(۲۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ایک عورت مسجد سے گرد وغبار صاف کیا کرتی تھی۔ جب ا س کا انتقال ہوا تو اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اس کی تدفین کی خبر نہ دی گئی ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ'' جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوتو مجھے خبر دے دیا کرو ۔''پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کی نَماز جنازہ ادا فرمائی اور فرمایا کہ ''میں اسے مسجد سے گردوغبار صاف کرنے کی وجہ سے جنت میں دیکھ رہا ہوں ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۱۶۰۷، ج۱۱، ص ۱۹۰)
(۲۴۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُبَید بن مَرزُوق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ شریف میں ایک عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی۔جب اس کا انتقال ہوا تو نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اس کے بارے میں خبر نہ دی گئی ۔ایک مرتبہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر کے قریب سے گزرے تودریافت فرمایا، ''یہ کس کی قبر ہے؟'' تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' ام مِحْجَنْ کی۔'' فرمایا ،''وہی جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی ؟'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ، ''جی ہاں ۔'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس کی قبر پر صف بنانے کا حکم د یا اور اس کی نَماز جنازہ پڑھائی۔پھر اس عورت کومخاطب کرکے فرمایاکہ'' تو نے کون ساکام سب سے افضل پایا ؟'' صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض
Flag Counter