Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
103 - 736
حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا ،''یارسول اللہ !میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نَماز پڑھنا پسند کرتی ہوں ۔''تو آپ نے فرمایا،'' میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نَماز پڑھنا پسند کرتی ہولیکن تمہارا گھر کے اندرونی  کمرے میں نَماز پڑھنا بیرونی کمرے میں  نَماز پڑھنے سے بہتر ہے اور بیرونی کمرے میں نماز پڑھنا  صحن میں نَماز پڑھنے سے بہتر ہے اور صحن میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نَماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہار ااپنے محلے کی مسجد میں نَماز پڑھنا میری مسجد میں نَماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔''راوی کہتے ہیں کہ (یہ سننے کے بعد) اُم حمید رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے گھرکے ایک کونے میں مسجد بنانے کا حکم دیا اور جب تک زندہ رہیں اسی کونے میں نَماز پڑھتی رہیں ۔
(مسند احمد ، حدیث ام حمید وام حکیم وامراۃ، رقم ۲۷۱۵۸ ،ج ۰۱، ص ۳۱۰)
وضاحت :
    نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری میں جب عورتیں نَماز کے لئے اپنے گھر وں سے نکلتی تھیں تو اچھی طرح باپردہ ہو کر زینت کئے بغیر نکلتی تھیں۔ جب نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نما ز کا سلا م پھیرتے تو مردوں سے فرماتے ''جب تک عورتیں چلی نہ جائیں اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔'' اس احتیاط کے باوجود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کا اپنے گھرو ں میں نَماز پڑھناان کے حق میں بہتر ہے۔تو آپ کا ان عورتوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنے گھروں سے بہترین کپڑے پہن کر زینت کئے ہوئے خوشبو لگاکر نکلتی ہیں؟اور بے شک ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ،''اگر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے جواَب عورتیں کرتی ہیں تو ان کو مسجد آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیاگیا تھا ۔''
   (صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب خروج النساء الی المسجد ، رقم ۴۴۵، ص ۲۳۴)
    ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ قول پہلی صدی کی ان عورتوں کے بارے میں ہے جو صحابیات تھیں اگر وہ آج کی عورتوں کو دیکھ لیتیں تو نہ جانے کیا ارشاد فرماتیں؟

    حضرتِ سیدنا ابو عمرو شیبانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کو جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکالتے اور فرماتے ہوئے سنا کہ ''اپنے گھروں کو چلی جاؤ یہ تمہارے لئے مسجد میں حاضر ہونے سے بہتر ہے۔''
Flag Counter