| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۲۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما مدینہ منورہ کے محلے اوساط میں حضرتِ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر ایک جنازے میں شریک ہوئے ۔اس کے بعد حارث بن خزرج کے محلے میں بنو عمر وبن عوف کے پاس تشریف لے گئے ۔ان سے عرض کیا گیا ''اے ابو عبد الرحمن !آپ امامت کہاں فرماتے ہیں ؟'' ارشاد فرمایا ،''میں بنو عمرو بن عوف کی اس مسجد میں امامت کرتاہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اس مسجد میں نَماز پڑھی اسے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔''
(صحیح ابن حبا ن ،کتا ب الصلوۃ، با ب المساجد ، رقم۱۶۲۵ ،ج ۳، ص ۷۴)
(۲۲۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اُسید بن ظُہیر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' مسجد قباء میں ایک نَماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتا ب اقامۃ الصلوۃ ، باب ماجاء فی الصلوۃ فی مسجد قباء ،رقم ، ۱۴۱۱ ، ج ۲ ،ص ۱۷۵)
(۲۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےكہ نبي مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو اپنے گھر سے وضو کرکے مسجد قبا ء میں آئے پھر اس مسجد میں نَماز پڑھے اسے ایک عمرے کا ثواب دیا جائے گا ۔''
(مسند امام احمد ،ج۵،رقم۱۵۹۸۱، ص۴۱۱)
ایک اور روایت میں ہے کہ'' جس نے احسن طریقے سے وضو کیاپھر مسجد قباء میں داخل ہوکر چار رکعتیں اداکیں تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔''
(الترغیب والترہیب ، کتاب الحج ،باب الترغیب فی الصلوۃ ،ج۲،رقم۱۸، ص۱۴۲)
حضرتِ سیدنا عامر بن سعدا ورحضرتِ سیدتنا عائشہ بنت سعد نے اپنے والد حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' مجھے مسجد قباء میں نَماز پڑھنامسجد اقصیٰ میں نَماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے ۔''