پچھلے صفحات میں گزر چکا کہ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' بیت المقدس میں ایک نَماز پڑھنا عام مساجد میں پانچ سو نَمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔''
(۲۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جب حضرتِ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہو ئے تو انہوں نے اللہ عزوجل سے ایک ایسی بادشاہت کا سوال کیا جو ان کے بعد کسی اور کو حاصل نہ ہو اور وہ اسکی بادشا ہت کا مظہر ہو او ر یہ سوال کیا کہ اس مسجد میں جو بھی نَماز کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ پھر رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ''دو چیزیں تو انہیں عطافرمادی گئیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا فرمادی گئی ہوگی ۔ ''