Brailvi Books

جنتی زیور
97 - 676
    جو لوگ ذراذرا سی باتوں پر اپنی بہنوں'بیٹیوں' پھوپھیوں' خالاؤں' ماموؤں' چچاؤں' بھتیجوں' بھانجوں وغیرہ سے یہ کہہ کر قطع تعلق کر لیتے ہیں کہ آج سے میں تیرا رشتہ دار نہیں اور تو بھی میرا رشتہ دار نہیں۔ اور پھر سلام کلام' ملنا جلنا بند کردیتے ہیں یہاں تک کہ رشتہ داروں کی شادی وغمی کی تقریبات کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔حد ہوگئی کہ بعض بدنصیب اپنے قریبی رشتہ داروں کے جنازہ اور کفن دفن میں بھی شریک نہیں ہوتے تو ان حدیثوں کی روشنی میں تم خود ہی فیصلہ کرو کہ یہ لوگ کتنے بڑے بدبخت' حرماں نصیب اور گناہ گار ہیں؟ (توبہ توبہ نعوذباﷲ)

 پڑوسیوں کے حقوق :۔اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے احادیث میں ہمسایوں اور پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ جن کو ادا کرنا ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے لازم و ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔
وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ ۔
''یعنی قریبی اور دور والے پڑوسیوں کے ساتھ نیک سلوک اور اچھا برتاؤ رکھو۔'' (پ5،النساء:36)

اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ کو ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ شاید عنقریب پڑوسی کو اپنے پڑوسی کا وارث ٹھہرا دیں گے۔
(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب الوصیۃ بالجاروالاحسان الیہ ، رقم۲۶۶۴،ص۱۴۱۳)
    ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ ایک دن حضور علیہ ا لصلوۃ والسلام وضو فرما رہے تھے تو صحابہ کرام علیھم الرضوان آپ کے وضو کے دھووَن کو لوٹ لوٹ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے یہ
Flag Counter