جو لوگ ذراذرا سی باتوں پر اپنی بہنوں'بیٹیوں' پھوپھیوں' خالاؤں' ماموؤں' چچاؤں' بھتیجوں' بھانجوں وغیرہ سے یہ کہہ کر قطع تعلق کر لیتے ہیں کہ آج سے میں تیرا رشتہ دار نہیں اور تو بھی میرا رشتہ دار نہیں۔ اور پھر سلام کلام' ملنا جلنا بند کردیتے ہیں یہاں تک کہ رشتہ داروں کی شادی وغمی کی تقریبات کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔حد ہوگئی کہ بعض بدنصیب اپنے قریبی رشتہ داروں کے جنازہ اور کفن دفن میں بھی شریک نہیں ہوتے تو ان حدیثوں کی روشنی میں تم خود ہی فیصلہ کرو کہ یہ لوگ کتنے بڑے بدبخت' حرماں نصیب اور گناہ گار ہیں؟ (توبہ توبہ نعوذباﷲ)
پڑوسیوں کے حقوق :۔اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے احادیث میں ہمسایوں اور پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ جن کو ادا کرنا ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے لازم و ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔