Brailvi Books

جنتی زیور
98 - 676
منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو؟صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ ہم لوگ اﷲعزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی محبت کے جذبے میں یہ کررہے ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ جس کویہ بات پسند ہو کہ وہ اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے محبت کرے۔ یا اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اس سے محبت کریں اس کو لازم ہے کہ وہ ہمیشہ ہر بات میں سچ بولے۔ اور اس کو جب کسی چیز کا امین بنایاجائے تو وہ امانت کو ادا کرے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
(شعب الایمان ، باب فی تعظیم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ... الخ ، رقم ۱۵۳۳،ج۲،ص۲۰۱)
اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ وہ شخص کامل درجے کا مسلمان نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھالے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔
(شعب الایمان،باب فی الزکوٰۃ، فصل فی کراہیۃ امساک الفضل... الخ ، رقم ۳۳۸۹، ج۳، ص۲۲۵)
    بہر حال اپنے پڑوسیوں کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہے۔

(۱)اپنے پڑوسی کے دکھ سکھ میں ہمیشہ شریک رہے اور بوقت ضرورت ان کی ہر قسم کی امدادبھی کرتا رہے۔

(۲)اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری اور ان کی خیر خواہی اور بھلائی میں ہمیشہ لگا رہے۔

(۳)کچھ ہدیوں اور تحفوں کا بھی لین دین رکھے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب تم لوگ شوربا پکاؤ تو اس میں کچھ زیادہ پانی ڈال کر شوربے کو بڑھاؤ تاکہ تم لوگ اس کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری اور ان کی مدد کر سکو۔
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب ،باب الوصیۃ بالجاروالاحسان الیہ، رقم ۲۶۲۵،ص۱۴۱۳)
Flag Counter