| جنتی زیور |
''یعنی اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں نہیں داخل ہو گا۔ ''
اگر رشتہ داروں کی طرف سے کوئی تکلیف بھی پہنچ جائے تو اس پر صبر کرنا اور پھر بھی ان سے میل جول اور تعلق کو برقرار رکھنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ جوتم سے تعلق توڑے تم اس سے میل ملاپ رکھو اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو۔ اور جو تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تم اس کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہو۔(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عقبہ بن عامر،الحدیث۱۷۴۵۷، ج۶، ص۱۴۸، کنزالعمال،کتاب الاخلاق،باب صلۃ الرحم،الحدیث ۶۹۲۶،ج۳،ص۱۴۵)
اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے آدمی اپنے اہل و عیال کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور اس کی مالداری بڑھ جاتی ہے۔ اور اس کی عمر میں درازی اور برکت ہوتی ہے۔
(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی تعلیم النسب ، رقم ۱۹۸۶،ج۳،ص۳۹۴)
ان حدیثوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا کتنا بڑاا جر و ثواب ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے فوائد و منافع کس قدر زیادہ ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی اور ان سے تعلق کاٹ لینے کا گناہ کتنا بھیانک اور خوفناک ہے اوردونوں جہاں میں اس کا نقصان اوروبال کس قدر زیادہ خطرناک ہے ۔ اس لئے ہر مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنے کا خاص طور پر دھیان رکھے۔ یاد رکھو کہ شریعت کے احکام پر عمل کرنا ہی مسلمان کے لئے دونوں جہان میں صلاح و فلاح کا سامان ہے شریعت کو چھوڑ کر کبھی بھی کوئی مسلمان دونوں جہان میں پنپ نہیں سکتا۔