Brailvi Books

جنتی زیور
94 - 676
کرتے رہیں۔

(۸)ماں باپ کے ذمہ جو قرض ہو اس کو ادا کریں یا جن کاموں کی وہ وصیت کر گئے ہوں۔ ان کی وصیتوں پر عمل کریں۔

(۹)جن کاموں سے زندگی میں ماں باپ کو تکلیف ہوا کرتی تھی ان کی وفات کے بعد بھی ان کاموں کو نہ کریں کہ اس سے انکی روحوں کو تکلیف پہنچے گی۔

(۱۰)کبھی کبھی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں۔ ان کے مزاروں پر فاتحہ پڑھیں۔ سلام کریں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اس سے ماں باپ کی ارواح کو خوشی ہوگی اور فاتحہ کا ثواب فرشتے نور کی تھالیوں میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کریں گے اور ماں باپ خوش ہو کر اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔

دادا' دادی'نانا'نانی'چچا' پھوپھی' ماموں'خالہ وغیرہ کے حقوق بھی ماں باپ ہی کی طرح ہیں یوں ہی بڑے بھائی کا حق بھی باپ ہی جیسا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ۔
وحق کبیرالاخوۃ حق الوالد علی ولدہٖ۔
(شعب الایمان للبیھقی ۵۵،باب فی برالوالدین ،فصل فی صلۃ الرحم ،رقم ۷۹۲۹، ج۶، ص۲۱۰)
یعنی بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر ہے۔ 

    اس زمانے میں لڑکے اور لڑکیاں ماں باپ کے حقوق سے بالکل جاہل اور غافل ہیں۔ ان کی تعظیم و تکریم اور فرماں برداری و خدمت گزاری سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ کچھ تو اتنے بڑے بدبخت اور نالائق ہیں کہ ماں باپ کو اپنے قول وفعل سے اذیت اور تکلیف دیتے ہیں۔ اور اسی طرح  گناہ کبیرہ میں مبتلا ہو کر قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار'اور عذاب جہنم کے حق دار بن رہے ہیں۔
Flag Counter