کرتے رہیں۔
(۸)ماں باپ کے ذمہ جو قرض ہو اس کو ادا کریں یا جن کاموں کی وہ وصیت کر گئے ہوں۔ ان کی وصیتوں پر عمل کریں۔
(۹)جن کاموں سے زندگی میں ماں باپ کو تکلیف ہوا کرتی تھی ان کی وفات کے بعد بھی ان کاموں کو نہ کریں کہ اس سے انکی روحوں کو تکلیف پہنچے گی۔
(۱۰)کبھی کبھی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں۔ ان کے مزاروں پر فاتحہ پڑھیں۔ سلام کریں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اس سے ماں باپ کی ارواح کو خوشی ہوگی اور فاتحہ کا ثواب فرشتے نور کی تھالیوں میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کریں گے اور ماں باپ خوش ہو کر اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔
دادا' دادی'نانا'نانی'چچا' پھوپھی' ماموں'خالہ وغیرہ کے حقوق بھی ماں باپ ہی کی طرح ہیں یوں ہی بڑے بھائی کا حق بھی باپ ہی جیسا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ۔