Brailvi Books

جنتی زیور
93 - 676
ہے۔

(۱)خبردار خبردار ہرگز ہرگز اپنے کسی قول و فعل سے ماں باپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ دیں۔ اگرچہ ماں باپ اولاد پر کچھ زیادتی بھی کریں مگر پھر بھی اولاد پر فرض ہے کہ وہ ہرگز ہرگز کبھی بھی اور کسی حال میں بھی ماں باپ کا دل نہ دکھائیں۔

(۲)اپنی ہر بات اور اپنے ہر عمل سے ماں باپ کی تعظیم و تکریم کرے اور ہمیشہ ان کی عزت و حرمت کا خیال رکھے۔

(۳)ہر جائز کام میں ماں باپ کے حکموں کی فرماں برداری کرے۔

(۴)اگر ماں باپ کو کوئی بھی حاجت ہو تو جان و مال سے انکی خدمت کرے۔

(۵)اگر ماں باپ اپنی ضرورت سے اولاد کے مال وسامان میں سے کوئی چیز لے لیں تو خبردار خبردار ہر گز ہر گز برا نہ مانیں۔ نہ اظہار ناراضگی کریں۔ بلکہ یہ سمجھیں کہ میں اورمیرا مال سب ماں باپ ہی کا ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک شخص سے یہ فرمایا کہ
اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ
یعنی تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب ماللرجل من مال ولدہ،الحدیث۲۲۹۲،ج۳،ص۸۱)
(۶)ماں باپ کا انتقال ہوجائے تو اولاد پر ماں باپ کایہ حق ہے کہ ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہیں اور اپنی نفلی عبادتوں اور خیر و خیرات کا ثواب ان کی روحوں کو پہنچاتے رہیں کھانوں اور شیرینی وغیرہ پر فاتحہ دلا کر ان کی ارواح کو ایصال ثواب کرتے رہیں۔

(۷)ماں باپ کے دوستوں اور ان کے ملنے جلنے والوں کے ساتھ احسان اور اچھا برتاؤ
Flag Counter