زیادہ تر سلائے رکھو۔ اور جب وہ بیٹھنے کے قابل ہوں تو ان کو رفتہ رفتہ مسندوں اور تکیوں کا سہارا دے کر بٹھانے کی کوشش کرو۔ ہر دم گود میں لئے رہنے سے بچے کمزور ہو جایا کرتے ہیں۔ اور وہ گود میں رہنے کی عادت پڑجانے سے بہت دیر میں چلتے اور بیٹھتے ہیں۔
(۴)بعض عورتیں اپنے بچوں کو مٹھائی کثرت سے کھلایا کرتی ہیں۔ یہ سخت مضر ہے۔ مٹھائی کھانے سے دانت خراب اور معدہ کمزور' اور بکثرت صفراوی بیماریاں اور پھوڑے پھنسی کا روگ بچوں کو لگ جاتا ہے۔ مٹھائیوں کی جگہ گلوکوز کے بسکٹ بچوں کے لئے اچھی غذا ہے۔
(۵) بچوں کے سامنے زیادہ کھانے کی برائی بیان کرتے رہو اور ہر وقت کھاتے پیتے رہنے سے بھی بچوں کو نفرت دلاتے رہو۔ مثلاًیوں کہا کرو کہ جو زیادہ کھاتا ہے وہ جنگلی اور بدو ہوتا ہے اور ہر وقت کھاتے پیتے رہنا یہ بندروں کی عادت ہے۔
(۶)بچوں کی ہر ضد پوری مت کرو کہ اس سے بچوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور وہ ضدی ہو جاتے ہیں اور یہ عادت عمر بھر نہیں چھوٹتی۔
(۷)بچوں کے ہاتھ سے فقیروں کو کھانا اور پیسہ دلایا کرو۔ اسی طرح کھانے پینے کی چیزیں بچوں کے ہاتھ سے اس کے بھائی بہنوں کو یا دوسرے بچوں کو دلایا کرو تاکہ سخاوت کی عادت ہو جائے اور خود غرضی اور نفس پروری کی عادت پیدا نہ ہو اور بچہ کنجوس نہ ہو جائے۔
(۸)چلا کر بولنے اور جواب دينے سے ہمیشہ بچوں کو روکو۔ خاص کر بچیوں کو تو خوب خوب ڈانٹ پھٹکار کرو۔ ورنہ بڑی ہونے کے بعد بھی یہی عادت پڑی رہے گی تو میکے اور سسرال دونوں جگہ سب کی نظروں میں ذلیل و خوار بنی رہے گی اور منہ پھٹ اور بدتمیز کہلائے گی۔