Brailvi Books

جنتی زیور
89 - 676
ماں باپ کو لازم ہے کہ بچوں کو بچپن ہی میں اچھی عادتیں سکھائیں اور بری عادتوں سے بچائیں بعض لوگ یہ کہہ کر ابھی بچہ ہے۔ بڑ ا ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گا۔ بچوں کو شرارتوں اور غلط عادتوں سے نہیں روکتے۔ وہ لوگ در حقیقت بچوں کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد بچوں کے برے اخلاق اور گندی عادتوں پر روتے اور ماتم کرتے ہیں اس لئے نہایت ضروری ہے کہ بچپن ہی میں بچوں کی کوئی شرارت یا بری عادت دیکھیں تو اس پر روک ٹوک کرتے رہیں بلکہ سختی کے ساتھ ڈانٹتے پھٹکارتے رہیں۔اورطرح طرح سے بری عادتوں کی برائیوں کو بچوں کے سامنے ظاہر کر کے بچوں کو ان خراب عادتوں سے نفرت دلاتے رہیں اور بچوں کی خوبیوں اور اچھی اچھی عادتوں پر خوب خوب شاباش کہہ کر ان کا من بڑھائیں بلکہ کچھ انعام دے کر ان کا حوصلہ بلند کریں۔اس سے قبل بچوں کے حقوق کے بیان میں بچوں کے لئے بہت سی مفید باتیں ہم لکھ چکے ہیں اب اس سے کچھ زائد باتیں بھی ہم لکھتے ہیں۔ ماں باپ پر لازم ہے کہ ان باتوں کا خاص طور پر دھیان رکھیں۔ تاکہ بچوں اور بچیوں کا مستقبل روشن اور شاندار بن جائے۔

(۱)بچوں کو دودھ پلانے اور کھانا کھلانے کے لئے وقت مقرر کرلو۔ جو عورتیں ہر وقت بچوں کو دودھ پلاتی یا جلدی جلدی بچوں کو دن رات میں بار بار کھانا کھلاتی رہتی ہیں ان کے بچوں کا ہاضمہ خراب اور معدہ کمزور ہو جایا کرتا ہے اور بچے قے دست کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر کمزور ہو جایا کرتے ہیں۔

(۲)بچوں کو صاف ستھرا رکھو مگر بہت زیادہ بناؤ سنگھار مت کرو۔ کہ اس سے اکثر نظر لگ جایاکرتی ہے۔

(۳)بچوں کو ہر دم گود میں نہ لئے رہو بلکہ جب تک وہ بیٹھنے کے قابل نہ ہوں پالنے میں