(۹)غصہ کرنا اور بات بات پر روٹھ کر منہ پھلانا۔ بہت برا ہے اور بہت زور سے ہنسنا خواہ مخواہ بھائی بہنوں سے لڑنا جھگڑنا۔ چغلی کھانا۔ گالی بکنا ان حرکتوں پر لڑکوں اور خاص کر لڑکیوں کو بہت زیادہ تنبیہ کیا کرو۔ ان بری عادتوں کا پڑجانا عمر بھر کے لئے رسوائی کا سامان ہے۔
(۱۰)اگر بچہ کہیں سے کسی کی کوئی چیز اٹھالائے اگر چہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ اس پر سب گھر والے خفا ہوجائیں اور سب گھر والے بچے کو چور چور کہہ کر شرم دلائیں اور بچے کو مجبور کریں کہ وہ فوراًاس چیز کو جہاں سے وہ لایا ہے اسی جگہ اس کو رکھ آئے پھر چوری سے نفرت دلانے کے لئے اس کا ہاتھ دھلائیں اور کان پکڑ کر اس سے توبہ کرائیں تاکہ بچوں کے ذہن میں اچھی طرح یہ بات جم جائے کہ پرائی چیز لینا چوری ہے اور چوری بہت ہی برا کام ہے۔
(۱۱)بچے غصہ میں اگر کوئی چیز توڑیں پھوڑیں۔ یا کسی کو مار بیٹھیں تو بہت زیادہ ڈانٹو۔ بلکہ مناسب سزادو تاکہ بچے پھر ایسا نہ کریں اس موقع پر لاڈ پیار نہ کرو۔
(۱۲)کبھی کبھی بچوں کو بزرگوں اور نیک لوگوں کی حکایتیں سنایا کرو۔ مگر خبردار خبردار عاشقی معشوقی کے قصے کہانیاں بچوں کے کان میں نہ پڑیں۔ نہ ایسی کتابیں بچوں کے ہاتھوں میں دو جن سے اخلاق خراب ہوں۔
(۱۳)لڑکوں اور لڑکیوں کو ضرور کوئی ایسا ہنر سکھا دو جس سے ضرورت کے وقت وہ کچھ کما کر بسر اوقات کر سکیں۔ مثلاًسلائی کا طریقہ' یا موزہ بنیان' سوئیٹر بننا' یا رسی بٹنا یا چرخہ کاتنا' خبردار خبردار ان ہنر کی باتوں کو سکھانے میں شرم و عار محسوس نہ کرو۔
(۱۴)بچوں کو بچپن ہی سے اس بات کی عادت ڈالو کہ وہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کریں