(۱۷)نیا میوہ' نیا پھل' پہلے بچوں کو کھلائیں پھر خود کھائیں کہ بچے بھی تازہ پھل ہیں۔ نئے پھل کو نیا پھل دینا اچھا ہے۔
(۱۸)چند بچے بچیاں ہوں تو جو چیزیں دیں سب کو یکساں اور برابردیں۔ ہر گز کمی بیشی نہ کریں۔ ورنہ بچوں کی حق تلفی ہوگی۔ بچیوں کو ہر چیز بچوں کے برابر ہی دیں۔ بلکہ بچیوں کی دلجوئی و دلداری کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ کیونکہ بچیوں کا دل بہت نازک ہوتا ہے۔
(۱۹)لڑکیوں کو لباس اور زیور سے آراستہ اور بناؤ سنگھار کے ساتھ رکھیں تاکہ لوگ رغبت کے ساتھ نکاح کا پیغام دیں۔ ہاں اس کا خیال رکھیں کہ وہ زیورات پہن کر باہر نہ نکلیں کہ چوروں ڈاکوؤں سے جان کا خطرہ ہے۔ بچیوں کو بالا خانوں پر نہ رہنے دیں کہ اس میں بے حیائی کا خطرہ ہے۔
(۲۰)حتی الامکان بارہ برس کی عمر میں بچیوں کی شادی کردیں مگر خبردار ہر گز ہر گز کسی بددین یا بد مذہب مثلاً رافضی' خارجی' وہابی' غیر مقلد وغیرہ کے یہاں لڑکوں یا لڑکیوں کی شادی نہ کریں ورنہ اولاد کی بہت بڑی حق تلفی ہوگی اور ماں باپ کے سروں پر بہت بڑے گناہ کا بوجھ ہوگا اور وہ عذاب جہنم کے حقدار ہوں گے۔ اسی طرح فاسقوں' فاجروں' شرابیوں' بدکاروں' حرام کی کمائی کھانے والوں' سود خوروں اور ناجائز کام دھندا کرنے والوں کے یہاں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں نہ کریں اور رشتہ تلاش کرنے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مذہب اہل سنت اور دین دار ہونے کا خاص طور پر دھیان رکھیں۔
اولاد کی پرورش کرنے کا طریقہ:۔ہر ماں باپ کو یہ جان لینا چاہے کہ بچپن میں جو اچھی بری عادتیں بچوں میں پختہ ہو جاتی ہیں وہ عمر بھر نہیں چھوٹتی ہیں۔اس لئے