بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا ہر ماں کا فرض منصبی ہے کہ بچوں کو اسلامی تہذیب و تمدن کے سانچے میں ڈھال کر ان کی بہترین تربیت کرے اگر ماں اپنے اس حق کو نہ ادا کرے گی تو گناہ گار ہوگی!
(۱۲)جب بچہ یا بچی سات برس کے ہو جائیں تو ان کو طہارت اور وضو و غسل کا طریقہ سکھائیں اور نماز کی تعلیم دے کر ان کو نمازی بنائیں اور پاکی و ناپاکی اور حلال و حرام اور فرض و سنت وغیرہ کے مسائل ان کو بتائیں۔
(۱۳)خراب لڑکوں اور لڑکیوں کی صحبت' ان کے ساتھ کھیلنے سے بچوں کو روکیں اور کھیل تماشوں کے دیکھنے سے'ناچ گانے' سینما تھیٹر' وغیرہ لغویات سے بچوں اور بچیوں کو خاص طور پر بچائیں۔
(۱۴)ہر ماں باپ کا فرض ہے کہ بچوں اور بچیوں کو ہر برے کاموں سے بچائیں اور ان کو اچھے کاموں کی رغبت دلائیں تاکہ بچے اور بچیاں اسلامی آداب و اخلاق کے پابند اور ایمانداری و دینداری کے جوہر سے آراستہ ہو جائیں اور صحیح معنوں میں مسلمان بن کر اسلامی زندگی بسر کریں۔
(۱۵)یہ بھی بچوں کا حق ہے کہ ان کی پیدائش کے ساتویں دن ماں باپ ان کا سر منڈا کر بالوں کے وزن کے بر ابرچاندی خیرات کریں اور بچے کا کوئی اچھا نام رکھیں۔ خبردار خبردار ہر گز ہر گز بچوں بچیوں کا کوئی برا نام نہ رکھیں۔
(۱۶)جب بچہ پیدا ہو تو فوراً ہی اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھیں تاکہ بچہ شیطان کے خلل سے محفوظ رہے اور چھوہارہ وغیرہ کوئی میٹھی چیز چبا کر اس کے منہ میں ڈال دیں تاکہ بچہ شیریں زبان اور بااخلاق ہو۔