(۲)اگر ماں کے دودھ میں کوئی خرابی نہ ہو تو ماں اپنا دودھ اپنے بچوں کو پلائے کہ دودھ کا بچوں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔
(۳)بچوں کی صفائی ستھرائی۔ ان کی تندرستی و سلامتی کا خاص طور پر دھیان رکھے۔
(۴)بچوں کو ہر قسم کے رنج و غم اور تکلیفوں سے بچاتی رہے۔
(۵)بے زبان بچے اپنی ضروریات بتا نہیں سکتے۔ اس لئے ماں کا فرض ہے کہ بچوں کے اشارات کو سمجھ کر ان کی ضروریات کو پوری کرتی رہے۔
(۶)بعض مائیں چلا کر یا بلی کی بولی بول کر یا سپاہی کا نام لے کر' یا کوئی دھماکہ کرکے چھوٹے بچوں کو ڈرایا کرتی ہیں۔ یہ بہت ہی بری باتیں ہیں۔ بار بار ایسا کرنے سے بچوں کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ بڑے ہونے کے بعد ڈرپوک ہو جایا کرتے ہیں۔
(۷)بچے جب کچھ بولنے لگیں تو ماں کو چاہے کہ انہیں بار بار اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا نام سنائے ان کے سامنے بار بار کلمہ پڑھے۔ یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھنا سیکھ جائیں۔
(۸)جب بچے بچیاں تعلیم کے قابل ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کو قرآن شریف اور دینیات کی تعلیم دلائیں۔
(۹)بچوں کو اسلامی آداب و اخلاق اور دین و مذہب کی باتیں سکھائیں۔
(۱۰)اچھی باتوں کی رغبت دلائیں اور بری باتوں سے نفرت دلائیں۔
(۱۱)تعلیم و تربیت پر خاص طور پر توجہ کریں اور تربیت کا دھیان رکھیں۔ کیونکہ بچے سادہ ورق کے مانند ہوتے ہیں۔ سادہ کاغذ پر جو نقش و نگار بنائے جائیں وہ بن جاتے ہیں اور بچوں بچیوں کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اس لئے ماں کی تعلیم و تربیت کا