| جنتی زیور |
(۸)جو اپنی بیوی کی مصیبتوں، بیماریوں اور رنج و غم میں دل جوئی، تیمارداری اور وفاداری کا ثبوت دے۔ (۹) جو اپنی بیوی کو پردہ میں رکھ کر عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ (۱۰)جو اپنی بیوی کو دینداری کی تاکید کرتا رہے اور شریعت کی راہ پر چلائے۔ (۱۱)جو اپنی بیوی اور اہل و عیال کو کما کما کر رزق حلال کھلائے۔ (۱۲)جو اپنی بیوی کے مَیْکا والوں اور اسکی سہیلیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔ (۱۳)جو اپنی بیوی کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے۔ (۱۴)جو اپنی بیوی کے اخراجات میں بخیلی اورکنجوسی نہ کرے ۔ (۱۵)جو اپنی بیوی پر اسطرح کنٹرول رکھے کہ وہ کسی برائی کی طرف رخ بھی نہ کر سکے۔
(۴) عورت ماں بن جانے کے بعد
عورت جب صاحب اولاد اور بچوں کی ماں بن جائے تو اس پر مزید ذمہ داریوں کابوجھ بڑھ جاتا ہے کیونکہ شوہر اور والدین وغیرہ کے حقوق کے علاوہ بچوں کے حقوق بھی عورت کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں جن کو ادا کرنا ہر ماں کا فرض منصبی ہے۔ جو ماں اپنے بچوں کا حق ادا نہ کرے گی یقیناً وہ شریعت کے نزدیک بہت بڑی گناہگار' اور سماج کی نظروں میں ذلیل و خوار ٹھہرے گی۔
بچوں کے حقوق
(۱)ہر ماں پر لازم ہے کہ اپنے بچوں سے پیار و محبت کرے اور ہر معاملہ میں ان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرے اور ان کی دلجوئی و دل بستگی میں لگی رہے اور ان کی پرورش اور تربیت میں پوری پوری کوشش کرے۔