Brailvi Books

جنتی زیور
78 - 676
اختیار طلاق کا لفظ منہ سے نکل گیا' کبھی کہتے ہیں کہ عورت ماہواری کی حالت میں تھی' کبھی کہتے ہیں کہ میں نے طلاق دی مگر بیوی نے طلاق لی نہیں۔ حالانکہ ان گنواروں کو معلوم ہونا چاہے کہ ان سب صورت میں طلاق پڑ جاتی ہے اور بعض تو ایسے بد نصیب ہیں کہ تین طلاق دے کر جھوٹ بولتے ہیں کہ میں نے ایک ہی بار کہا تھا اور یہ کہہ کر بیوی کو رکھ لیتے ہیں اور عمر بھر زناکاری کے گناہ میں پڑے رہتے ہیں۔ ان ظالموں کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ تین طلاق کے بعد عورت بیوی نہیں رہ جاتی۔ بلکہ وہ ایک ایسی اجنبی عورت ہو جاتی ہے کہ بغیر حلالہ کرائے اس سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ خداوند کریم ان لوگوں کو ہدایت دے۔ (آمین)

(۱۷)اگر کسی کے پاس دو بیویاں یا اس سے زیادہ ہوں تو اس پر فرض ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا سلوک اور برتاؤ کرے کھانے'پینے' مکان'سامان' روشنی' بناؤ سنگھارکی چیزوں غرض تمام معاملات میں برابری برتے۔ اسی طرح ہر بیوی کے پاس رات گزارنے کی باری مقرر کرنے میں بھی برابری کا خیال ملحوظ رکھے۔ یاد رکھو! کہ اگر کسی نے اپنی تمام بیویوں کے ساتھ یکساں اور برابر سلوک نہیں کیا تو وہ حق العباد میں گرفتار اور عذاب جہنم کا حق دار ہوگا۔

    حدیث شریف میں ہے کہ ''جس شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے درمیان عدل اور برابری کا برتاؤ نہیں کیا تو وہ قیامت کے دن میدان محشر میں اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا آدھا بدن مفلوج (فالج لگا ہوا) ہوگا۔''
 (جامع الترمذی، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر ،رقم ۱۱۴۴،ج۲،ص۳۷۵)
 (۱۸)اگر بیوی کے کسی قول و فعل 'بدخوئی'بداخلاقی' سخت مزاجی' زبان درازی وغیرہ
Flag Counter