| جنتی زیور |
سے شوہر کو کبھی کبھی کچھ اذیت اورتکلیف پہنچ جائے تو شوہر کو چاہے کہ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لے۔ کیونکہ عورتوں کا ٹیڑھاپن ایک فطری چیز ہے۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ عورت حضرت آدم علیہ السلام کی سب سے ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی اگر کوئی شخص ٹیڑھی پسلی کو سیدھی کرنے کی کوشش کریگا تو پسلی کی ہڈی ٹوٹ جائے گی مگر وہ کبھی سیدھی نہیں ہو سکے گی۔ ٹھیک اسی طرح اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو بالکل ہی سیدھی کرنے کی کوشش کریگا تو یہ ٹوٹ جائے گی یعنی طلاق کی نوبت آجائے گی۔ لہٰذا اگر عورت سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھالو یہ بالکل سیدھی کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔جس طرح ٹیڑھی پسلی کی ہڈی کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی۔''(صحیح البخاری، کتاب النکاح ، باب الوصاۃ بالنساء ، رقم ۵۱۸۵،ج۳،ص۴۵۷)
(۱۹)شوہر کو چاہے کہ عورت کے اخراجات کے بارے میں بہت زیادہ بخیلی اور کنجوسی نہ کرے نہ حد سے زیادہ فضول خرچی کرے۔ اپنی آمدنی کو دیکھ کر بیوی کے اخراجات مقرر کرے۔ نہ اپنی طاقت سے بہت کم' نہ اپنی طاقت سے بہت زیادہ۔ (۲۰) شوہر کو چاہے کہ اپنی بیوی کو گھر کی چہاردیواری کے اندر قید کر کے نہ رکھے بلکہ کبھی کبھی والدین اور رشتہ داروں کے یہاں آنے جانے کی اجازت دیتا رہے اور اس کی سہیلیوں اور رشتہ داری والی عورتوں اور پڑوسنوں سے بھی ملنے جلنے پر پابندی نہ لگائے۔ بشرطیکہ ان عورتوں کے میل جول سے کسی فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو اور اگر ان عورتوں کے میل ملاپ سے بیوی کے بدچلن یا بد اخلاق ہوجانے کا خطرہ ہو تو ان عورتوں سے میل جول پر پابندی لگادیناضروری ہے اور یہ شوہر کا حق ہے۔