اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ محض اتنی سی بات پرکہ بچہ اپنے باپ کا ہم شکل نہیں ہے حضور علیہ ا لصلوہ و السلام نے اس دیہاتی کو اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے اس بچے کے بارے میں یہ کہہ سکے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ محض شبہ کی بنا پر اپنی بیوی کے اوپر الزام لگا دینا جائز نہیں ہے بلکہ بہت بڑا گناہ ہے۔
(۱۶)اگر میاں بیوی میں کوئی اختلاف یا کشیدگی پیدا ہو جائے تو شوہر پر لازم ہے کہ طلاق دینے میں ہر گز ہر گز جلدی نہ کرے۔ بلکہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور غصہ اتر جانے کے بعد ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر اور لوگوں سے مشورہ لے کر یہ غور کرے کیا میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اگر بناؤ اور نباہ کی کوئی شکل نکل آئے تو ہر گز ہر گز طلاق نہ دے۔ کیونکہ طلاق کوئی اچھی چیز نہیں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ حلال چیزوں میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔