سے بہت ہی خوش اور مگن رہے گی کہ میرے شوہر کو مجھ سے ایسی محبت ہے کہ وہ میری نظروں سے غائب رہنے کے بعد بھی مجھے یاد رکھتا ہے اور اس کو میرا خیال لگا رہتا ہے ظاہر ہے کہ اس سے بیوی اپنے شوہر کے ساتھ کس قدر زیادہ محبت کرنے لگے گی۔
(۹)عورت اگر اپنے مَیکا سے کوئی چیز لا کریا خود بناکر پیش کرے۔ تو مرد کو چاہے کہ اگرچہ وہ چیز بالکل ہی گھٹیا درجے کی ہو۔ مگر اس پر خوشی کا اظہار کرے اور نہایت ہی پرتپاک اور انتہائی چاہ کے ساتھ اس کو قبول کرے اور چند الفاظ تعریف کے بھی عورت کے سامنے کہہ دے تاکہ عورت کا دل بڑھ جائے اور اس کا حوصلہ بلند ہو جائے۔ خبردار خبردار عورت کے پیش کئے ہوئے تحفوں کو کبھی ہر گز ہرگز نہ ٹھکرائے نہ ان کو حقیر بتائے نہ ان میں عیب نکالے۔ ورنہ عورت کا دل ٹوٹ جائے گا اور اس کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔ یادرکھو کہ ٹوٹا ہوا شیشہ تو جوڑا جا سکتا ہے مگر ٹوٹا ہوا دل بڑی مشکل سے جڑتا ہے اور جس طرح شیشہ جڑ جانے کے بعد بھی اس کا داغ نہیں مٹتا اسی طرح ٹوٹا ہوا دل جڑ جائے پھر بھی دل میں داغ دھبہ باقی ہی رہ جاتا ہے۔
(۱۰)عورت اگر بیمار ہو جائے تو شوہر کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ عورت کی غم خواری اور تیمارداری میں ہر گز ہر گز کوئی کوتاہی نہ کرے بلکہ اپنی دلداری و دلجوئی اور بھاگ دوڑ سے عورت کے دل پر نقش بٹھا دے کہ میرے شوہر کو مجھ سے بے حد محبت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت شوہر کے اس احسان کو یاد رکھے گی۔ اور وہ بھی شوہر کی خدمت گزاری میں اپنی جان لڑادے گی۔
(۱۱)شوہر کو چاہے کہ اپنی بیوی پر اعتماد اور بھروسا کرے اور گھریلو معاملات اس کے سپرد کرے تاکہ بیوی اپنی حیثیت کو پہچانے اور اس کا وقار اس میں خود اعتمادی پیدا کرے