Brailvi Books

جنتی زیور
75 - 676
اور وہ نہایت ہی دلچسپی اور کوشش کے ساتھ گھریلو معاملات کے انتظام کو سنبھالے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران اور محافظ ہے اور اس معاملہ میں عورت سے قیامت میں خداوند قدوس پوچھ گچھ فرمائے گا۔

    بیوی پر اعتماد کرنے کا یہ فائدہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو گھر کے انتظامی معاملات میں ایک شعبہ کی ذمہ دار خیال کرے گی اور شوہر کوبڑی حد تک گھریلو بکھیڑوں سے نجات مل جائے گی اورسکون و اطمینان کی زندگی نصیب ہوگی!

(۱۲)عورت کا اس کے شوہر پر ایک حق یہ بھی ہے کہ شوہر عورت کے بستر کی راز والی باتوں کو دوسروں کے سامنے نہ بیان کرے بلکہ اس کو راز بنا کر اپنے دل ہی میں رکھے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ خدا کے نزدیک بد ترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے پاس جائے۔ پھر اس کے پردہ کی باتوں کو لوگوں پر ظاہر کرے اور اپنی بیوی کو دوسروں کی نگاہوں میں رسوا کرے۔
 (صحیح مسلم ، کتاب النکاح۔۲۱۔باب تحریم افشاء سرالمرأۃ ،رقم ۱۴۳۷،ص۷۵۳)
 (۱۳)شوہر کو چاہے کہ بیوی کے سامنے آئے تو میلے کچیلے گندے کپڑوں میں نہ آئے بلکہ بدن اور لباس و بستر وغیرہ کی صفائی ستھرائی کا خاص طور پر خیال رکھے کیونکہ شوہر جس طرح یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بناؤ سنگھار کے ساتھ رہے اسی طرح عورت بھی یہ چاہتی ہے کہ میرا شوہر میلا کچیلا نہ رہے۔ لہٰذا میاں بیوی دونوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اس بات سے سخت نفرت تھی کہ آدمی میلا کچیلا بنا رہے اور اس کے بال الجھے رہیں۔ اس حدیث پر میاں بیوی دونوں کو عمل کرنا چاہے۔
Flag Counter