Brailvi Books

جنتی زیور
73 - 676
بیوی میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔

(۷)مرد کو چاہے کہ عورت کی غلطیوں پر اصلاح کے لئے روک ٹوک کرتا رہے۔ کبھی سختی اور غصہ کے انداز میں اور کبھی محبت اور پیار اور ہنسی خوشی کے ساتھ بھی بات چیت کرے جو مرد ہر وقت اپنی مونچھ میں ڈنڈا باندھے پھرتے ہیں۔ ماسوائے ڈانٹ پھٹکار اور مار پیٹ کے اپنی بیوی سے کبھی کوئی بات ہی نہیں کرتے۔ تو ان کی بیویاں شوہروں کی محبت سے مایوس ہو کر ان سے نفرت کرنے لگتی ہیں۔ اور جو لوگ ہر وقت بیویوں کا ناز اٹھاتے رہتے ہیں اور بیوی لاکھ غلطیاں کرے مگر پھر بھی بھیگی بلی کی طرح اس کے سامنے میاؤں میاؤں کرتے رہتے ہیں ان لوگوں کی بیویاں گستاخ اور شوخ ہو کر شوہروں کو اپنی انگلیوں پر نچاتی رہتی ہیں۔ اس لئے شوہروں کو چاہے کہ حضرت شیخ سعدی علیہ ا لرحمۃ کے اس قول پر عمل کریں کہ
درشتی و نرمی بہم در بہ است

چو فاصد کہ جراح و مرہم نہ است
  یعنی سختی اور نرمی دونوں اپنے اپنے موقعے پر بہت اچھی چیز ہیں جیسے فصد کھولنے والا زخم بھی لگاتا ہے اور مرہم بھی رکھ دیتا ہے مطلب یہ ہے کہ شوہر کو چاہے کہ نہ بہت ہی کڑوا بنے نہ بہت ہی میٹھا۔ بلکہ سختی اور نرمی موقع موقع سے دونوں پر عمل کرتا رہے۔

(۸)شوہر کو یہ بھی چاہے کہ سفر میں جاتے وقت اپنی بیوی سے انتہائی پیار و محبت کے ساتھ ہنسی خوشی سے ملاقات کرکے مکان سے نکلے اور سفر سے واپس ہو کر کچھ نہ کچھ سامان بیوی کے لئے ضرور لائے کچھ نہ ہوتوکچھ کھٹا میٹھا ہی لیتا آئے اور بیوی سے کہے کہ یہ خاص تمہارے لئے ہی لایا ہوں۔ شوہر کی اس ادا سے عورت کا دل بڑھ جائے گا اور وہ اس خیال
Flag Counter