نکتہ چینی نہ کرے۔ نہ عورت کے ماں باپ اور عزیز و اقارب کو عورت کے سامنے برابھلا کہے کیونکہ ان باتوں سے عورت کے دل میں مرد کی طرف سے نفرت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر دونوں کی زندگی دن رات کی جلن اور گھٹن سے تلخ بلکہ عذاب جان بن جاتی ہے۔
(۵)مرد کو چاہے کہ خبردار خبردار کبھی بھی اپنی عورت کے سامنے کسی دوسری عورت کے حسن و جمال یا اس کی خوبیوں کا ذکر نہ کرے ورنہ بیوی کو فوراً ہی بدگمانی اور یہ شبہ ہو جائے گا کہ شاید میرے شوہر کا اس عورت سے کوئی سانٹھ گانٹھ ہے یا کم سے کم قلبی لگاؤ ہے اور یہ خیال عورت کے دل کا ایک ایسا کانٹا ہے کہ عورت کو ایک لمحہ کے لئے بھی صبر و قرار نصیب نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھو! کہ جس طرح کوئی شوہر اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی کا کسی دوسرے مرد سے ساز باز ہو اسی طرح کوئی عورت بھی ہرگز ہرگز کبھی اس بات کی تاب نہیں لا سکتی کہ اس کے شو ہرکاکسی دوسری عورت سے تعلق ہو بلکہ تجربہ شاہد ہے کہ اس معاملہ میں عورت کے جذبات مرد کے جذبات سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوا کرتے ہیں لہٰذا اس معاملہ میں شوہر کو لازم ہے کہ بہت احتیاط رکھے ورنہ بد گمانیوں کا طوفان میاں بیوی کی خوشگوار زندگی کو تباہ و برباد کردے گا۔
(۶)مرد بلا شبہ عورت پر حاکم ہے۔ لہٰذا مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ بیوی پر اپنا حکم چلائے مگر پھر مرد کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی بیوی سے کسی ایسے کام کی فرمائش نہ کرے جو اس کی طاقت سے باہر ہو یا وہ کام اس کو انتہائی ناپسند ہو۔ کیونکہ اگر چہ عورت جبراً قہراً وہ کام کردے گی۔ مگر اس کے دل میں ناگواری ضرور پیدا ہو جائے گی جس سے میاں بیوی کی خوش مزاجی کی زندگی میں کچھ نہ کچھ تلخی ضرور پیدا ہو جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رفتہ رفتہ میاں