Brailvi Books

جنتی زیور
71 - 676
    ہاں البتہ اگر عورت کوئی بڑا قصور کر بیٹھے تو بدلہ لینے یا دکھ دینے کے لئے نہیں بلکہ عورت کی اصلاح اور تنبیہ کی نیت سے شوہر اس کو مارسکتا ہے مگر مارنے میں اس کا پوری طرح دھیان رہے کہ اس کو شدید چوٹ یا زخم نہ پہنچے۔

    فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو چار باتوں پر سزادے سکتا ہے اور وہ چار باتیں یہ ہیں۔

(۱)شوہر اپنی بیوی کو بناؤ سنگھار اور صفائی ستھرائی کا حکم دے لیکن پھر بھی وہ پھوہڑ اور میلی کچیلی بنی رہے۔

(۲)شوہر صحبت کرنے کی خواہش کرے اور بیوی بلاکسی عذر شرعی منع کرے۔

(۳)عورت حیض اور جنابت سے غسل نہ کرتی ہو۔

(۴) بلاوجہ نماز ترک کرتی ہو۔
 (الفتاوی القاضی خان،کتاب النکاح،فصل فی حقوق الزوجیۃ،ج۱،ص۲۰۳)
ان چاروں صورتوں میں شوہر کو چاہے کہ پہلے بیوی کو سمجھائے اگر مان جائے تو بہتر ہے ورنہ ڈرائے دھمکائے۔اگر اس پر بھی نہ مانے تو اس شرط کے ساتھ مارنے کی اجازت ہے کہ منہ پر نہ مارے۔ اور ایسی سخت مار نہ مارے کہ ہڈی ٹوٹ جائے یا بدن پر زخم ہوجائے۔

(۴)میاں بیوی کی خوشگوار زندگی بسر ہونے کے لئے جس طرح عورتوں کو مردوں کے جذبات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح مردوں کو بھی لازم ہے کہ عورتوں کے جذبات کا خیال رکھیں ورنہ جس طرح مرد کی ناراضگی سے عورت کی زندگی جہنم بن جاتی ہے اس طرح عورت کی ناراضگی بھی مردوں کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔ اس لئے مرد کو لازم ہے کہ عورت کی سیرت و صورت پر طعنہ نہ مارے اور عورت کے میکا والوں پر بھی طعنہ زنی اور
Flag Counter